NCP-SP Urdu News 10 June 25

ملک کے مفاد میں واضح موقف اختیار کریں: شرد پوار

پارٹی میں جو باقی رہ گئے وہی اصل نظریاتی کارکن ہیں اور یہی پارٹی کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے

پارٹی کی 26 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پونے میں پارٹی قائدین کا خطاب

پونے: راشٹروادی کانگریس شرد چندر پوار کی 26ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پونے میں پارٹی کے دفتر میں ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ پارٹی کے قومی صدر شرد پوار کی صدارت میں منعقدہ اس تقریب میں متعدد اہم رہنما، اراکین پارلیمنٹ، سابق وزراء اور کارکنان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ آئندہ دو تین ماہ میں مقامی بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں اور ان انتخابات میں خواتین کو پچاس فیصد نمائندگی دی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب لڑکیوں کو مواقع دیے گئے تو انہوں نے عوام میں اعتماد قائم کیا، حتیٰ کہ فوج میں بھی اُن کی صلاحیتوں کا اعتراف ہوا۔ اُنہوں نے ’آپریشن سندور‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دو خواتین نے اہم معلومات فراہم کیں، جو اُن کے صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ اگر خواتین کو موقع دیا جائے تو وہ اپنی قابلیت ثابت کر سکتی ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ پارٹی میں دراڑ آئی، جو کہ غیر متوقع تھی۔ لیکن جو لوگ پارٹی میں باقی رہ گئے وہ نظریات کے ساتھ جڑے رہے۔ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں ایک نیا منظر دیکھنے کو ملے گا۔ اب ہمیں صرف اگلے تین ماہ مقامی خود مختار اداروں کے انتخابات پر توجہ مرکوز کرنی ہے اور پچاس فیصد خواتین کو کامیاب بنانا ہے۔ پارٹی کی حالیہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ جو باقی رہ گئے وہی اصل نظریاتی کارکن ہیں اور یہی پارٹی کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ اپنی تقریر میں اُنہوں نے آنجہانی آر. آر. پاٹل کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عام خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن جب انہیں موقع ملا تو اُنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اُن کی محنت، ایمانداری اور عزم نے انہیں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ جیسے اہم عہدوں تک پہنچایا۔ اس مثال کے ذریعے پوار نے یہ پیغام دیا کہ راشٹروادی پارٹی عام کارکنوں کو بھی بڑے مواقع فراہم کرتی ہے۔

شرد پوار نے کہا کہ 1980 میں اقتدار چھننے کے بعد بھی پارٹی نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور جب ایک وقت میں صرف چھ ارکان باقی تھے، تو وہی چھ افراد پارٹی کی دوبارہ تعمیر میں ستون بنے۔ آج بھی ایسے کارکن موجود ہیں جو عوام کی خدمت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں، جیسے نلیش لَنکے جو ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں اور رات دو بجے تک عوامی مسائل حل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہی راشٹروادی پارٹی کا اصل سرمایہ ہے۔ اقتدار خود بخود آئے گا اور اب اس کی آمد کی علامتیں نظر آنے لگی ہیں۔ ملک کی موجودہ صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ ملک کے ارد گرد کا ماحول تشویش ناک ہے۔ پاکستان، چین، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ہمسایہ ممالک سے ہمارے تعلقات بہتر نہیں رہے۔ سری لنکا پر چین کا بڑھتا ہوا اثر خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایسے وقت میں ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کے مفاد میں متحدہ موقف اختیار کرنا ہوگا۔

راشٹروادی پارٹی ایک بار پھر پرواز بھرے گی: سپریا سولے

پارٹی کی قومی ورکنگ صدر و رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے نے اپنے خطاب میں کہا کہ یشونت راؤ چوہان کے نظریات کو اپناتے ہوئے پارٹی ایک بار پھر بلند پرواز کرے گی۔ اُنہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے ریاست گیر دورے کا اعلان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، اندرا گاندھی اور یشونت راؤ چوہان کے نظریات ہی ہمارے رہنما ہیں اور انہی کی راہ پر ہم آگے بڑھیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ زندگی میں کامیابی اور ناکامی دونوں آتے ہیں، لیکن ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ حوصلے سے آگے بڑھنا چاہیے۔

سپریا سولے نے کہا کہ لوک سبھا میں ہمارے اراکینِ پارلیمنٹ کی تقاریر وزراء سے بہتر ہوتی ہیں۔ جب ملک میں بڑے فیصلے کیے جاتے ہیں تو راشٹروادی پارٹی کی رائے لی جاتی ہے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ سیاست میں کام کرتے ہوئے پالیسی کی سطح پر کام کرنا ضروری ہے۔ اگر بادشاہ ہوائی جہاز سے چلے تو اُسے عوام کی حالت کا پتہ نہیں چلے گا، اس لیے زمینی سطح پر جڑنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کی تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے اُنہوں نے پارٹی اجلاسوں میں شرکت اور ریاست گیر دورے کے آغاز کا اعلان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ریاست کی صورتِ حال ابتر ہے اور آج سے ہی راشٹروادی پارٹی تمام سماجی مسائل کے لیے پوری قوت سے اٹھ کھڑی ہوگی۔

اقتدار گیا مگر وفادار باقی رہے: جینت پاٹل

پارٹی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے کہا کہ ریاست کی ترقی میں راشٹروادی پارٹی نے حکومت میں رہتے ہوئے متعدد اہم پالیسیاں بنائیں۔ گزشتہ 14-15 برسوں میں پارٹی کو مضبوط بنانے کا کام ہوا۔ لیکن 2014 کے بعد جب بی جے پی اقتدار میں آئی تو کئی لوگ پارٹی چھوڑ کر چلے گئے، مگر ہم سب شرد پوار صاحب کے ساتھ وفاداری سے جُڑے رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حالات چاہے سازگار ہوں یا ناسازگار، کامیابی ملے یا نہ ملے، آپ سب نے پوار صاحب کا ساتھ دیا، اسی لیے عددی طاقت سے زیادہ معیار کو اہمیت حاصل ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سپریا سولے نے ’آپریشن سندور‘ پر جو مؤقف پیش کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ ہم سب کے سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن جب بات قومی سلامتی کی ہو تو ہمیں متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پارٹی نے ہمیشہ قومی مفادات کو مقدم رکھا ہے۔ اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے جینت پاٹل نے کہا کہ شرد پوار صاحب نے پوری ریاست میں مہم چلائی۔ 11 کروڑ عوام کو یقین تھا کہ مہاوکاس اگھاڑی جیتے گی، مگر نتائج کچھ مختلف آئے۔ انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھے۔ حال ہی میں اپوزیشن لیڈروں نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے، مگر کمیشن خاموش ہے۔

یومِ تاسیس کے موقع پر شرد پوار صاحب کی موجودگی میں پارٹی کے دفتر پر پرچم کشائی کی گئی۔ اس موقع پر ریاستی صدر و رکن اسمبلی جینت پاٹل، قومی ورکنگ صدر سپریا سولے، قومی خواتین صدر فوزیہ خان، رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر امول کولہے، سابق وزیر انیل دیشمکھ، سابق وزیر راجیش ٹوپے، رکن اسمبلی روہت پوار، پونے شہر کے صدر پرشانت جگتاپ، یوتھ ونگ کے صدر محبوب شیخ اور سیوادل کے صدر گریش ساونت سمیت بڑی تعداد میں کارکنان اور عہدیداران موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading