2011 کے مقدمے میں اکبر اویسی کو اردھاپور عدالت سے ضمانت

اردھاپور (ورق تازہ نیوز) 2011 میں اردھاپور میں منعقدہ ایک عوامی جلسے کے دوران مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا بیان دینے کے الزام میں درج مقدمے کے سلسلے میں مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی بدھ کے روز اردھاپور عدالت میں حاضر ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے عدالت میں ضمانت کی درخواست داخل کی، جس پر عدالت نے 25 ہزار روپے کے مچلکے پر انہیں ضمانت منظور کردی۔

2011 میں اردھاپور میں منعقدہ ایک عوامی جلسے کے دوران اکبرالدین اویسی پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا بیان دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں حیدرآباد کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی ٹی۔ راجا نے عدالت کے ذریعے شکایت درج کرائی تھی۔ بعد ازاں متعلقہ مقدمہ اردھاپور پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا۔

اردھاپور پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد عدالت میں فرد جرم پیش کی تھی۔ اس کے بعد جاری عدالتی کارروائی کے تحت اکبرالدین اویسی بدھ کے روز اردھاپور عدالت میں بذات خود حاضر ہوئے۔ عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے انہیں 25 ہزار روپے کے مچلکے پر ضمانت دے دی۔
اس معاملے کی اگلی سماعت 21 نومبر کو مقرر کی گئی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے جاری اس مقدمے میں اب آئندہ عدالتی کارروائی پر توجہ مرکوز ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات فی الحال عدالتی کارروائی کے مرحلے میں ہیں اور ان کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

اکبرالدین اویسی کی جانب سے ایڈووکیٹ تہوّر خان پٹھان، ایڈووکیٹ عبدالخاجہ، ایڈووکیٹ اظہر اور ایڈووکیٹ مزمل نے عدالت میں پیروی کی۔ اس موقع پر مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما سید معین اور ان کے دیگر ساتھی بھی اردھاپور میں موجود تھے

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading