نئی دہلی، 30 ستمبر .( ایجنسی )انتخابی کمیشن نے خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے سلسلے میں اہم فیصلہ لیا ہے۔ جن ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہوچکا ہے، وہاں آن لائن ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 سے ایس آئی آر سے متعلق اضافی اعلامیہ ہٹا دیا گیا ہے۔ کمیشن کے اس فیصلے سے نئے ووٹروں کے اندراج کے عمل میں اہم تبدیلی آئی ہے۔
جن ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے، وہاں یہ اضافی اعلامیہ برقرار رہے گا۔ اس اعلامیے کے ذریعے نئے ووٹروں سے ان کا اپنا یا والدین اور دادا دادی، نانا نانی کا نام پرانی ووٹر فہرستوں سے منسلک کرنے سے متعلق معلومات طلب کی جارہی تھیں۔ جن ریاستوں میں ایس آئی آر مکمل ہوچکا ہے، وہاں اب انتخابی رجسٹریشن قواعد 1960 کے مطابق مقررہ فارم 6 ہی استعمال کیا جائے گا۔
مہاراشٹر کے لیے بھی انتخابی کمیشن نے اہم مہلت میں توسیع کی ہے۔ ووٹر فہرست کے مسودے پر دعوے، اعتراضات اور تجاویز داخل کرنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 12 اکتوبر 2026 کردی گئی ہے۔ اسی طرح نوٹس اور دعوے و اعتراضات کے نمٹارے کی آخری تاریخ 10 نومبر تک بڑھائی گئی ہے۔
ایس آئی آر کے دوران جن ووٹروں کو پرانے ریکارڈ میں نام نہ ملنے یا دیگر اختلافات کی وجہ سے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، انہیں عام طور پر انتخابی افسر کے دفتر میں ذاتی طور پر سماعت کے لیے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بوتھ لیول افسر یعنی بی ایل او متعلقہ ووٹر کے گھر جاکر ضروری دستاویزات حاصل کریں گے اور انہیں ای سی آئی نیٹ نظام پر اپ لوڈ کریں گے۔ اس کے بعد انتخابی رجسٹریشن افسر دستاویزات کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔
صرف خصوصی حالات میں ذاتی سماعت کی جائے گی اور ممکن ہونے کی صورت میں اسے آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ووٹر کے خاندان کے کسی بالغ فرد کو بھی اس کی جانب سے سماعت میں شرکت کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
انتخابی کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران یا اس کے بعد اگر کسی اہل ووٹر کا نام ووٹر فہرست میں شامل ہونے سے رہ گیا ہو تو وہ مسلسل ووٹر رجسٹریشن کے عمل کے ذریعے اپنا نام شامل کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ نوجوانوں اور پہلی مرتبہ ووٹ دینے والے شہریوں کے نام شامل کرنے کے لیے بھی خصوصی مہم چلانے کی ہدایت متعلقہ افسران کو دی گئی ہے۔
دریں اثنا، مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران ووٹروں سے دستاویزات حاصل کرنے کے عمل کو مزید آسان بنایا گیا ہے۔ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکّلنگم نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ واٹس ایپ کے ذریعے بھیجی گئی دستاویزات کو مدنظر رکھا جائے۔ ضرورت پڑنے پر بی ایل او گھر جاکر دستاویزات کی تصدیق کریں گے۔
انتخابی کمیشن کے اس فیصلے کو مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران نوٹس حاصل کرنے والے ووٹروں کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اس فیصلے سے ووٹر رجسٹریشن اور دستاویزات کی تصدیق کے عمل میں مزید سہولت پیدا ہونے کی توقع ہے۔