سپر ایل نینو سے دنیا پر بڑے موسمی بحران کا خطرہ؟ کہیں موسلا دھار بارش تو کہیں خشک سالی

نئی دہلی: بحرالکاہل میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھنے کے سبب 2026-27 کے دوران ایل نینو کی صورتحال انتہائی شدید ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق سال کے اختتام تک ایل نینو انتہائی مضبوط سطح تک پہنچ سکتا ہے، جس کے باعث 2027 تک دنیا کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت اور بارش کے انداز میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

امریکہ کی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے موسمیاتی اندازے کے مطابق اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران تاریخی طور پر انتہائی شدید ایل نینو بننے کا امکان 75 فیصد تک ہے۔ شمالی نصف کرہ میں 2026-27 کے موسم خزاں اور سرما کے دوران انتہائی شدید ایل نینو بننے کے امکانات 90 فیصد سے زیادہ بتائے گئے ہیں۔

ایل نینو کیا ہے؟

ایل نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندر کی سطح کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھنے سے پیدا ہونے والی موسمیاتی صورتحال ہے۔ اس تبدیلی کے باعث ہواؤں، بادلوں کی تشکیل اور بارش کے نظام میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ نتیجتاً دنیا کے کسی حصے میں موسلا دھار بارش اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ دوسرے علاقوں میں بارش کم ہونے سے خشک سالی اور شدید گرمی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

کہاں موسلا دھار بارش کا خطرہ؟

ایل نینو کے دوران بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں بارش میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض ممالک میں شدید بارش، سیلاب اور طوفان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس مغربی بحرالکاہل کے بعض علاقوں میں بارش کم ہونے کے باعث موسم زیادہ گرم اور خشک رہنے کا امکان ہوتا ہے۔

کہاں خشک سالی اور شدید گرمی؟

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایل نینو کے باعث بعض علاقوں میں خشک سالی جبکہ دیگر علاقوں میں شدید بارش اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انتہائی زیادہ درجہ حرارت کے واقعات میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

ہندوستان پر کیا ہوگا اثر؟

ہندوستان میں ایل نینو کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔ ہندوستانی حکومت کی وزارت ارضیاتی علوم کے مطابق ایل نینو ہندوستانی مانسون پر اثر انداز ہونے والا واحد عنصر نہیں ہے۔ بحر ہند ڈائی پول، میڈن جولین آسیلیشن اور سمندر و ماحول کے درمیان علاقائی تعلقات بھی مانسون کو متاثر کرتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 2026 میں ایل نینو کی صورتحال جون میں کمزور تھی، جبکہ جولائی میں یہ درمیانی سطح تک پہنچ گئی۔ اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران اس کے مزید مضبوط ہوکر انتہائی شدید سطح تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اس کے حقیقی اثرات آئندہ موسمی حالات پر منحصر رہیں گے۔

’سپر ایل نینو‘ کے نام سے متعلق اہم وضاحت

حکومت ہند کے مطابق ’سپر ایل نینو‘ عالمی موسمیاتی تنظیم یا ہندوستانی محکمہ موسمیات کی جانب سے مقرر کردہ کوئی الگ سرکاری درجہ نہیں ہے۔ موسمیاتی سائنس میں ایل نینو کی شدت کو عام طور پر کمزور، درمیانی، مضبوط اور انتہائی مضبوط سطحوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس لیے ’سپر ایل نینو‘ کی اصطلاح فی الحال انتہائی شدید ایل نینو کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایل نینو کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے۔ ایسے میں آئندہ چند ماہ کے دوران شدید بارش، سیلاب، خشک سالی اور انتہائی گرمی کے واقعات پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ تاہم ہر ملک اور خطے میں ایل نینو کے اثرات ایک جیسے ہوں گے، یہ ضروری نہیں ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading