پونے گریجویٹ حلقے میں مہایوتی میں بغاوت

پونے گریجویٹ حلقے کی امیدوار ی کو لے کر مہایوتی میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے شرد لاڈ کو امیدوار بنانے کی تیاری کے درمیان نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈر پرتاپ عرف بھیا مانے نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بغاوت کے باعث مہایوتی کے اندر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔

بھیا مانے کو ریاستی وزیر حسن مشرف کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے پونے گریجویٹ حلقے سے انتخاب لڑنے کے لیے گزشتہ کچھ عرصے سے تیاری شروع کر رکھی تھی۔ مہایوتی میں اس نشست پر این سی پی کی جانب سے بھی دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم بی جے پی نے اس نشست پر اپنا دعویٰ برقرار رکھتے ہوئے شرد لاڈ کو میدان میں اتارنے کی تیاری کی۔
ٹکٹ نہ ملنے کے بعد بھیا مانے نے کسی بھی صورت میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے حسن مشرف سے ملاقات کرکے آزاد امیدوار کی حیثیت سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد حسن مشرف نے بھی بھیا مانے کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات ختم ہونے کی بات کہی۔ اس معاملے کے بعد دونوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری سیاسی رفاقت ختم ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دریں اثنا پونے گریجویٹ اور پونے ٹیچر دونوں نشستوں پر بی جے پی نے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے۔ مہایوتی میں نشستوں کی تقسیم کو لے کر بی جے پی، شیوسینا اور این سی پی کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ پونے گریجویٹ حلقے میں بھیا مانے کی بغاوت کے بعد مہایوتی کے اندر نشستوں کی تقسیم کا معاملہ انتخابی میدان تک پہنچ گیا ہے۔
ریاستی قانون ساز کونسل کے گریجویٹ اور ٹیچر حلقوں کے انتخابات کے لیے نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 6 اکتوبر ہے۔ اس لیے آئندہ چند دنوں میں امیدواروں کے نام، نشستوں کی تقسیم اور باغی امیدواروں کے موقف سے متعلق مزید سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے۔ فی الحال پونے گریجویٹ حلقے کی انتخابی صورتحال پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading