مسلم نام والی چار لڑکیوں کی ہندو رسم و رواج سے شادی

لکھنو¿ ،18 اکتوبر(پی ایس آئی)چار یتیم مسلم لڑکیوں کی شادی ہندو لڑکوں کے ساتھ ہندو رسم و رواج سے کی گئی. یہ شادیاں لکھنو¿ کے میٹروپولیٹن واقع کلیان بھون میں منعقد اجتماعی شادی کی تقریب میں ہوئیں جس کا انعقاد محکمہ سماج کلیان نے کیا تھا. اس اجتماعی شادی کی تقریب میں 27 ہندو جوڑوں کی شادیاں ہوئیں. اجتماعی شادی کی تقریب کے ایک دن پہلے تمام جوڑوں کا خصوصی مےرےج ایکٹ کے تحت کورٹ میں شادی کرائی گئی. عورت کلیان سیکشن اور سماج کلیان محکمہ نے مل کر اس تقریب کا اہتمام کیا تھا. تقریب میں 31 یتیم لڑکیوں کی شادی کی گئی. ان میں سے 27 لڑکیاں ہندو اور چار لڑکیاں مسلم تھیں. مسلم ناموں والی لڑکیوں کی شادی ہندو لڑکے سے ہندو رسم و رواج سے کی گئی. تمام جوڑوں نے سات پھیرے لئے، ایک دوسرے کو مالا پہنائی اور قسمیں کھائیں. پنڈتوں نے منتر پڑھے اور شادی پوری ہوئی. جن چار مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں سے شادی ہوئی ان کے نام رضوانہ، نوری، سیما اور صباءتھے. رضوانہ کی شادی شاہ جہاں پور کے راجکمار سے، نوری کی شادی علی گڑھ کے ببلو سے، سیما کی شادی امیش کمار دکشت اور صباءکی شادی ہردوئی کے وجے سنگھ کے ساتھ ہوئی. ڈی پی او سدھاکر پانڈے نے بتایا کہ شیلٹر ہوم میں ان لڑکیوں کو 6-10 سال کی عمر میں لایا گیا تھا. اتنے سالوں تک شیلٹر ہوم میں رہنے کے دوران اب انہیں یتیم قرار دے دیا گیا. بالغ ہونے کے بعد ان کی عمر شادی کے قابل ہو گئی. انتظامیہ نے ان کے لئے قابل دلہا تلاش کرنے کے لئے اخبارات میں اشتہارات دئے. سینکڑوں لڑکوں نے شادی کے لئے درخواست کی. ان میں سے کچھ لڑکوں کو شادی کے لئے منتخب کیا گیا.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading