مسلم لڑکی کا مرتد ہونا ایک نسل مرتد ہونے کے برابر ہے۔

ذوالقرنین احمد
مسلم لڑکیوں کا غیر مسلموں کے ساتھ بھاگ کر شادی کرنے کے کیسز میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ میں اس سے پہلے کئی مرتبہ اپنے آرٹیکل میں یہ بات صاف طور سے کہے چکا ہوں کہ اس کیلئے والدین ہی ذمہ دار ہے۔ اسکول کی عمر میں ہی لڑکے لڑکیاں با لغ ہوجاتے ہے، یہ سب نکاح میں دیری کی تباہ کاریاں ہے‌۔ جوانی بے لگام ہوتی ہے۔ نکاح کی عمر کو پہنچنے پر فوراً نکاح‌ کروایا جائے تو بہت حد تک ان مسائل سے بچاؤ کیا جا سکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرانے کیلئے والدین شوق سے اپنی لڑکیوں کو کالج یونیورسٹی میں داخل کراتے ہیں۔ اور وہ شادی کی عمر کو پہنچنے کی وجہ سے اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتے ہیں انہیں تو کسی غیر کی زرا سی ہمدرری درکار ہوتی ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، لڑکیاں اتنی نادان ہوتی ہے کچھ ہی دنوں میں اپنا آپ غیر کو سونپ دیتی ہے‌۔ اور آخری حد بھی پار کرلیتی ہے۔ ماں باپ کو کان کان خبر نہیں ہوتی۔ اتنی صفائی سے جھوٹ بولتی ہے کہ بندہ یقین ہی نہیں کر سکتا۔
ایک دوسرا مسلہ یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ لڑکا لڑکی مسلمان ہوتے ہیں۔ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس میں دونوں طرف سے غیرت،‌میعار، پیسہ، نوکری، گھر خاندان، انا آڑ بن جاتے ہیں۔ اس میں ذمہ دار والدین ہی ہیں۔ جو نکاح کو مشکل کر رہے ہیں۔ تبھی تو نوجوان لڑکے لڑکیاں حرام طریقے سے فطری عمل کو پورا کرنے پر مجبور ہے۔ لڑکا لڑکی جب ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو یہاں تک دیکھنے میں آتا ہے۔ کہ وہ دونوں اس دور کے شادی کے‌ معیار کیلئے اتنے فکر مند ہیں کہ دونوں جوپ کرکے پیسے جمع کرکے گھر لینے کا سوچتے ہیں۔ تاکہ گھر والے یہ نہ کہے کہ لڑکے کے پاس کچھ نہیں ہے۔ نوجوان تو صرف نکاح کرنے کیلئے تیار ہے۔ رسم و رواج اور معیار نے اس عمل کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔ جب کہ نکاح اتنا آسان کرنے کیلئے کہاں گیا ہے ،کہ زنا مشکل ہوجائے۔ لیکن یہاں والدین کے معیار، انا، نوکری، پیسہ، گھر نے زنا کو آسان کردیا ہے۔ غریب لڑکے لڑکیاں اپنی عمریں یونہی اپنی غریبی پر ماتم کناں ہوکر گزارنے پر مجبور ہے۔ اس میں سب سے بڑی غلطی والدین اور معاشرے کے بنائے گئے رسم و رواج کی ہے۔ اس لیے ہر روز اخبار میں سیکڑوں عصمت دری کے واقعات اخبار میں چھپ رہی ہے۔ نکاح کو آسان بناکر ایسے واقعات رونما ہونے سے بچائے جاسکتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں