ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل کو 85,876 اور ستیش چوہان کو 67,752 ووٹ حاصل ہوئے
39 امیدواروں کے اخراج اور ووٹوں کی منتقلی کے بعد حتمی نتیجہ کا اعلان، مسلسل 45 گھنٹے سے زائد وقت تک ووٹوں کی گنتی جاری رہی
ناندیڑ (ورق تازہ نیوز) مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے 05-اورنگ آباد ڈویژن گریجویٹ حلقہ انتخاب میں راشٹروادی کانگریس پارٹی (شردچندر پوار) کے امیدوار ڈاکٹر پرتاپ سنگھ ویدپرکاش پاٹل نے 18,124 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی۔ انہیں مجموعی طور پر 85,876 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے امیدوار ستیش بھانوداس راؤ چوہان کو 67,752 ووٹ ملے۔ 39 امیدواروں کو انتخابی عمل سے خارج کرنے اور ترجیحی ووٹوں کی منتقلی کا عمل مکمل ہونے کے بعد حتمی نتیجہ کا اعلان کیا گیا۔
جمعرات 29 اکتوبر کو علی الصبح 5 بج کر 10 منٹ پر انتخابی فیصلہ افسر اور ڈویژنل کمشنر جی شری کانت نے ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل کو کامیاب قرار دیا اور انہیں کامیابی کا سرٹیفکیٹ حوالے کیا۔ اس موقع پر انتخابی مبصر مادھوی کھوڈے چاورے، متعلقہ اضلاع کے کلکٹر، ضلع پریشدوں کے چیف ایگزیکٹیو افسران اور انتخابی عمل سے وابستہ دیگر عہدیداران موجود تھے۔
چھترپتی سنبھاجی نگر کے چکل تھانہ ایم آئی ڈی سی علاقے میں واقع ریسونیٹ لاجسٹکس ایل ایل پی میں ووٹوں کی گنتی ڈویژنل کمشنر جی شری کانت اور انتخابی مبصر مادھوی کھوڈے چاورے کی نگرانی میں مکمل کی گئی۔ اس انتخاب میں چھترپتی سنبھاجی نگر، جالنہ، بیڑ، پربھنی، ہنگولی، ناندیڑ، لاتور اور دھاراشیو سمیت 8 اضلاع کے 842 مراکز رائے دہی پر ووٹنگ ہوئی تھی۔ انتخابی میدان میں مجموعی طور پر 41 امیدوار موجود تھے، جبکہ ووٹوں کی گنتی کے لیے 70 میزوں کا انتظام کیا گیا تھا۔
88,558 ووٹوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا
ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی مرحلے میں بیلٹ پیپرز کی جانچ اور درجہ بندی کی گئی۔ اس کے بعد پہلی ترجیح کے ووٹوں کی گنتی 3 مرحلوں میں مکمل ہوئی۔ پہلے مرحلے میں 70,519 اور دوسرے مرحلے کے اختتام تک مجموعی طور پر 1,40,543 بیلٹ پیپرز کی گنتی کی گئی۔
گنتی کے مطابق مجموعی طور پر 1,77,115 ووٹ درست قرار پائے، جبکہ 16,540 ووٹ مسترد ہوئے۔ درست ووٹوں کی بنیاد پر کامیابی کے لیے 88,558 ووٹوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا تھا۔
پہلی ترجیح کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل کو 73,931 ووٹ، ستیش چوہان کو 60,768 ووٹ، آزاد امیدوار روی راج عرف انا صاحب ساولے پاٹل کو 19,835 ووٹ اور دلیپ گھوگے کو 8,439 ووٹ حاصل ہوئے۔ کسی بھی امیدوار کو کامیابی کے لیے مقررہ کوٹہ حاصل نہیں ہوسکا، جس کے بعد انتخابی قواعد کے مطابق کم ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کو مرحلہ وار خارج کرتے ہوئے ان کے بیلٹ پیپرز پر درج اگلی دستیاب ترجیح کے مطابق ووٹ دیگر امیدواروں کو منتقل کیے گئے۔
39 امیدواروں کے اخراج کے بعد حتمی نتیجہ
ووٹوں کی منتقلی کے دوران دلیپ گھوگے کے بیلٹ پیپرز سے 2,285 ووٹ ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل اور 1,881 ووٹ ستیش چوہان کو منتقل ہوئے۔ اس کے بعد 39ویں مرحلے میں روی راج ساولے پاٹل کے بیلٹ پیپرز سے 6,469 ووٹ ڈاکٹر پاٹل اور 3,241 ووٹ ستیش چوہان کے حصے میں آئے۔
مجموعی طور پر 41 امیدواروں میں سے 39 امیدواروں کے اخراج کے بعد صرف ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل اور ستیش چوہان میدان میں باقی رہ گئے۔ اس مرحلے پر بھی دونوں میں سے کوئی امیدوار مقررہ کوٹہ حاصل نہیں کرسکا، تاہم حتمی گنتی میں ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل کو 85,876 ووٹ اور ستیش چوہان کو 67,752 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس طرح ڈاکٹر پاٹل نے 18,124 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
45 گھنٹے سے زائد وقت تک ووٹوں کی گنتی
ووٹوں کی گنتی کا آغاز منگل 27 اکتوبر کو صبح 8 بجے ہوا تھا، جو جمعرات 29 اکتوبر کو علی الصبح حتمی نتیجہ کے اعلان تک مسلسل 45 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔
اس دوران بیلٹ پیپرز کی جانچ، درجہ بندی، پہلی ترجیح کے ووٹوں کی گنتی، امیدواروں کا اخراج، ترجیحی ووٹوں کی منتقلی اور حتمی اعداد و شمار کی تصدیق سمیت تمام مراحل مکمل کیے گئے۔ یہ عمل انتخابی فیصلہ افسر جی شری کانت اور انتخابی مبصر مادھوی کھوڈے چاورے کی نگرانی میں انجام دیا گیا۔
ڈویژنل کمشنر جی شری کانت کی رہنمائی میں ووٹوں کی گنتی کے نگرانوں، معاونین، سب ڈویژنل افسران، تحصیل داروں، نائب تحصیل داروں اور مختلف محکموں کے افسران و ملازمین نے باہمی تال میل کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔
ووٹوں کی گنتی کے مرکز اور اطراف میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ مرکز میں ضروری سہولیات، سامان، صفائی اور دیگر انتظامات کے لیے تعینات ملازمین اور معاون عملے نے بھی تعاون کیا۔
انتخابی فیصلہ افسر جی شری کانت نے کامیابی کے ساتھ ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کرنے پر انتخابی مبصر، تمام متعلقہ افسران، ملازمین، پولیس انتظامیہ اور دیگر معاون اداروں کا شکریہ ادا کیا۔