اسرائیل ایک بار پھر سیاسی بحران کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ 85 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نہ موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے بڑے حریف گاڈی آئزنکوٹ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔
اسرائیل ایک بار پھر سیاسی بحران کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ 85 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نہ موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے بڑے حریف گاڈی آئزنکوٹ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔
آئئے اس صورتحال میں ممکنہ منظرنامے پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں:
نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کا اتحاد؟ اس صورت میں نیتن یاہو کو اپنے موجودہ دائیں بازو اور انتہائی مذہبی اتحادیوں سے علیحدگی اختیار کرنا ہوگی، جبکہ آئزنکوٹ کو نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے اپنے بنیادی انتخابی وعدے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
عرب جماعتوں کی حمایت سے آئزنکوٹ کی حکومت؟ آئزنکوٹ اور ان کے اتحاد میں شامل تقریباً تمام یہودی جماعتیں عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے امکان کو مسترد کر چکی ہیں، لیکن موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اکثریت حاصل کرنے کا یہ ان کے لیے واحد راستہ دکھائی دیتا ہے۔
اپوزیشن کے دائیں بازو رہنماؤں کی مدد سے نیتن یاہو کی حکومت؟ نیتن یاہو اپوزیشن اتحاد میں شامل دائیں بازو کی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں نفتالی بینیٹ (بیاحاد اتحاد) اور ایویگڈور لیبرمین (اسرائیل بیتینو پارٹی) ممکنہ اہم شخصیات سمجھی جا رہی ہیں۔
نئے انتخابات اگر کوئی بھی اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ملک ایک اور انتخابی مرحلے کی طرف جا سکتا ہے۔ بہت سے مبصرین کے مطابق یہ بالواسطہ طور پر نیتن یاہو کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ نئے انتخابات تک وہ نگران وزیرِ اعظم کے طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے اور ممکن ہے کہ خود کو دوبارہ کامیابی کے بہتر امکانات کا حامل سمجھتے ہوں۔
شیئر, اسرائیلی الیکشن میں کوئی بھی جماعت تاحال واضح اکثریت نہ کر سکی: آگے کیا ہوگا؟