مراٹھواڑہ گریجویٹ حلقہ انتخاب میں ستییش چوہان کو جھٹکا، پرتاپ سنگھ پاٹل کو برتری

آزاد امیدوار روی راج سابڑے کا دعویٰ، ’’میں نے 18 سال کا قحط ختم کیا‘‘، دوسری ترجیح کے ووٹوں پر سب کی نظریں

ناندیڑ: (ورق تازہ نیوز)چھترپتی سنبھاجی نگر ڈویژن کے مراٹھواڑہ گریجویٹ حلقہ انتخاب کے ووٹوں کی گنتی کے دوران سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ مہاوکاس اگھاڑی کے امیدوار ڈاکٹر پرتاپ سنگھ وید پرکاش پاٹل نے پہلی ترجیح کے ووٹوں میں برتری حاصل کی ہے، جبکہ موجودہ رکن قانون ساز کونسل ستییش بھانوداس راؤ چوہان پیچھے چل رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل کے حامیوں نے برتری ملنے پر جشن مناتے ہوئے نعرے بازی کی اور گلال اڑایا۔

انتخابی نتائج کی گنتی کے دوران آزاد امیدوار روی راج عرف انا صاحب سابڑے پاٹل کے بیان نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوئی سیاسی طور پر مستحکم امیدوار نہیں ہیں، اس کے باوجود انہیں اب تک 20,450 ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں اہم امیدواروں کے سیاسی مستقبل کا انحصار ان کے ووٹوں پر ہے اور دوسری ترجیح کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 18 سال کا قحط ختم کردیا ہے۔

دوسری ترجیح کے ووٹوں پر نظریں

مراٹھواڑہ گریجویٹ حلقہ انتخاب میں کسی بھی امیدوار کو پہلی ترجیح کے ووٹوں میں کامیابی کے لیے مقررہ کوٹہ حاصل نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے اب دوسری ترجیح کے ووٹوں کی گنتی کا عمل اہم ہوگیا ہے۔ انتخابی ضابطوں کے مطابق دوسری ترجیح کے ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی کامیابی کی حتمی تصویر واضح ہوگی۔

ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل کے حامیوں نے 13,160 ووٹوں کی برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے جشن منایا۔ تاہم انتخابی عملے نے کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ 100 میٹر کے دائرے سے باہر رہ کر نعرے بازی کریں اور مقررہ حدود کی پابندی کریں۔

تیسری مرحلے کی گنتی کے اعداد و شمار

اورنگ آباد ڈویژن گریجویٹ حلقہ انتخاب میں تیسرے مرحلے کے اختتام تک مجموعی طور پر 1,93,655 ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ ان میں سے 1,77,115 ووٹ درست قرار پائے، جبکہ 16,540 ووٹوں کو منتقلی کے عمل کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ کامیابی کے لیے درکار ووٹوں کا کوٹہ 88,558 مقرر کیا گیا ہے۔

پہلی ترجیح کے ووٹوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

ڈاکٹر پرتاپ سنگھ وید پرکاش پاٹل: 73,931 ووٹ

ستییش بھانوداس راؤ چوہان: 60,768 ووٹ

روی راج عرف انا صاحب سابڑے پاٹل: 19,835 ووٹ

ان اعداد و شمار کے مطابق ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل پہلے نمبر پر، ستییش چوہان دوسرے اور آزاد امیدوار روی راج سابڑے پاٹل تیسرے نمبر پر ہیں۔ چونکہ کسی بھی امیدوار نے کامیابی کے لیے مقررہ کوٹہ حاصل نہیں کیا، اس لیے دوسری ترجیح کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس انتخاب کے نتائج پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔ دوسری ترجیح کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی نتیجہ سامنے آئے گا اور یہ واضح ہوگا کہ گریجویٹ حلقہ انتخاب کی نمائندگی کس امیدوار کو حاصل ہوتی ہے۔