اسرائیل میں منگل کے روز ہونے والے عام انتخابات کے ایگزٹ پولز کے مطابق بظاہر نہ ہی تجربہ کار وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ دوسری جانب انتخابات میں شامل دو عرب جماعتوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ انھیں ریکارڈ 18 یا 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
اسرائیلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کے معاملے پر وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے ایک دوسرے سے متضاد دعوے کیے ہیں۔
نیتن یاہو نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دائیں بازو کے اتحاد کو صہیونی اور یہودی عوام کی واضح اور فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام نے ایک مضبوط قومی اور دائیں بازو کی حکومت کے حق میں فیصلہ دیا ہے، اس لیے اب ایسی حکومت کی تشکیل ہونی چاہیے۔ تاہم انھوں نے انتخابی فتح کا باضابطہ اعلان کرنے سے گریز کیا۔
دوسری جانب سابق آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور نیتن یاہو کی قیادت کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حکمران اتحاد عوام کا اعتماد کھو چکا ہے اور ووٹرز نے نیتن یاہو کے بطور وزیرِاعظم برقرار رہنے کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔
آئزنکوٹ نے کہا کہ وہ اپنے سیاسی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے جو مستحکم ہو اور تمام اسرائیلی شہریوں کی نمائندگی کرے۔ انھوں نے زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر حکومت سازی کا عمل جلد مکمل ہونا چاہیے تاکہ قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام کو بحال کیا جا سکے۔