MPCC Urdu News 9 May 25

جمہوریت اور آئینی اقدار کے تحفظ کی حمایتی پارٹیوں کے ساتھ مل کر کانگریس بی جے پی کے خلاف برسرپیکار رہے گی: ہرش وردھن سپکال

نیشنلسٹ کانگریس کے دونوں دھڑے اگر متحد ہو رہے ہوں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، کانگریس کی پالیسی ’بھارت جوڑو‘ کی ہے

پاکستان پر حملے کے پس منظر میں تمام سیاسی پارٹیوں کو بھارتی فوج کی حمایت کرنی چاہیے

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ اگر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے دونوں گروپ دوبارہ متحد ہو رہے ہوں تو اس پر کسی قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں، تاہم جب اس حوالے سے کوئی ٹھوس بات سامنے آئے گی، تبھی کانگریس اس پر باضابطہ مؤقف اختیار کرے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر منقسم پارٹیاں، خیالات یا بھائی آپس میں دوبارہ مل رہے ہوں تو یہ کسی کو ناگوار نہیں محسوس ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی ‘بھارت جوڑو‘ کے نظریے کے تحت کام کر رہی ہے اور تمام پارٹیوں کو متحد ہوتے وقت تقسیم پسند سوچ کو مسترد کر دینا چاہیے۔ جو پارٹیاں جمہوریت اور آئین کے تحفظ اور فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں گی، کانگریس ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے دونوں دھڑوں کے انضمام اور ادھو ٹھاکرے و راج ٹھاکرے کے ممکنہ اتحاد پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کانگریس بی جے پی کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہے اور شرد پوار ’انڈیا اتحاد‘ کے ایک اہم رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں کچھ سیاسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں تو اس کے بعد حالات کے مطابق مؤقف اختیار کیا جائے گا۔ سپکال نے یاد دلایا کہ ریاست مہاراشٹر میں کانگریس پارٹی نے شیوسینا اور این سی پی کے ساتھ مل کر ’مہا وکاس اگھاڑی‘ کے بینر تلے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات لڑے ہیں۔ جہاں تک مقامی خود مختار اداروں کے انتخابات کا تعلق ہے، ان کے لیے فیصلے مقامی سطح پر کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں حالیہ دنوں میں پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے بھارت کی جانب سے ’آپریشن سندور‘ کے آغاز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نازک موقع پر تمام سیاسی و سماجی طبقات کو بھارتی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ کانگریس پارٹی نے بھی واضح طور پر مرکزی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پوری قوم کو متحد ہو کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک آواز میں کام کرنا ہوگا۔ سپکال نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بار 26/11 ممبئی حملے کے وقت کی طرح سماج منقسم نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے اپیل کی کہ پاکستان پر کی گئی کارروائی کو سیاسی عینک سے نہ دیکھا جائے۔ چند افراد کی جانب سے گمراہ کن دعوے کر کے فضا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو غیر ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے حساس موقع پر غیرذمہ دارانہ بیانات اور اشتعال انگیز حرکات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading