گیانیشور کمار کو پہلا بڑا جھٹکا؟ سپریم کورٹ کا SIR پر اہم تبصرہ، اب کیا ہوگا؟

نئی دہلی:چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مبینہ انتخابی گھوٹالے سے متعلق دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت کے اہم تبصرے کے بعد الیکشن کمیشن کی مشکلات بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے SIR سے متعلق اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ SIR سے متعلق فیصلہ اتفاق رائے یا اکثریت سے نہیں لیا گیا تھا تو اسے روکنا ممکن ہوسکتا ہے۔ جسٹس جے. باگچی نے یہ اہم بات کہی۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل وکاس سنگھ نے عدالت کے سامنے الیکشن کمیشن کے اختیارات کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو جج تبدیل نہیں کرسکتے۔ اس پر جسٹس جے. باگچی نے کہا کہ ہمارے پاس بھی صدر جمہوریہ جتنا ہی آئینی تحفظ موجود ہے۔

یہ سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے ہوئی۔ سماعت کے دوران وکاس سنگھ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی آئینی ادارے کے مقابلے میں چیف الیکشن کمشنر کو زیادہ طاقتور بنا دیا گیا ہے۔ 1990 میں صورت حال ایسی نہیں تھی، لیکن 2023 میں انہیں مزید اختیارات دیے گئے۔

وکاس سنگھ نے عدالت کے سامنے یہ بھی کہا کہ اسی وجہ سے آج ہر ہندوستانی شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔

SIR سے متعلق سپریم کورٹ کے اس تبصرے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر عدالت کے سامنے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ SIR کا فیصلہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اتفاق رائے یا اکثریت سے نہیں لیا گیا تھا تو اس کے نفاذ پر روک لگنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت اور عدالتی حکم پر منحصر ہوگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading