راہل گاندھی کو لوک سبھا میں بولنے سے روکنا مودی حکومت کی آمریت ہے: ہرش وردھن سپکال

اجیت پوار کے طیارہ حادثے پر عوام کے ذہنوں میں شکوک، غیر جانبدارانہ جانچ ضروری، حلف برداری میں عجلت مگر جانچ میں تاخیر کیوں؟

ریاست کو کل وقتی وزیرِ داخلہ نہ ہونے کے سبب قانون و نظم کی حالت ابتر، بشنوئی گینگ، کویتا گینگ جیسی مجرمانہ طاقتوں کو سرکاری سرپرستی

ممبئی: چین کی سرحد پر ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی لوک سبھا میں نہایت اہم اور سنجیدہ سوالات اٹھانا چاہتے تھے، مگر مودی حکومت انہیں بولنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت چین کے معاملے میں کوئی نہ کوئی سچ چھپا رہی ہے، اسی لیے اپوزیشن لیڈر کو بھی پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جا رہا۔ یہ رویہ انتہائی قابلِ مذمت ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نریندر مودی کی حکومت پارلیمانی روایات، اقدار اور قواعد کو پامال کرتے ہوئے آمریت کے انداز میں کام کر رہی ہے۔ یہ الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے عائد کیا ہے۔

تلک بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ملک کے سابق آرمی چیف جنرل منوج مکوند نرونے نے اپنی کتاب ’فور اسٹار آف ڈیسٹنی‘ میں چین سے متعلق واقعات کو پوری وضاحت اور جرات کے ساتھ بیان کیا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مودی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی نکات راہل گاندھی لوک سبھا میں رکھنا چاہتے تھے۔ چین کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے اور چین کی سرحد پر درحقیقت کیا ہوا، یہ جاننے کا حق ہندوستان کی تمام عوام کو ہے، مگر اس کے باوجود حکومت اپوزیشن لیڈر کو بولنے ہی نہیں دے رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماجی کارکن سونم وانگچُک نے بھی چین کی جانب سے ہندوستانی حدود میں مداخلت کا مسئلہ اٹھایا تھا، مگر مودی حکومت نے انہیں جیل میں ڈال دیا۔ یہ سب اقدامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حکومت سچ سامنے آنے سے خوفزدہ ہے۔

اجیت پوار کے طیارہ حادثے کو لے کر مختلف سطحوں پر سوالات اور شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اجیت پوار کی آخری گفتگو وائرل ہو چکی ہے، مگر بلیک باکس میں محفوظ مکالمہ اب تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا اور نہ ہی جانچ کی رفتار میں کوئی سنجیدگی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ تاخیر ناقابلِ فہم ہے اور اسی وجہ سے شکوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے سنجیدہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ حلف برداری کے معاملے میں جس قدر تیزی دکھائی گئی، اسی تیزی سے حادثے کی جانچ کیوں نہیں کی گئی؟ اجیت پوار جیسے نظم و ضبط کے پابند عوامی لیڈر کے ساتھ اس طرح کا حادثہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جب تک اس حادثے کی اصل وجوہات پوری طرح سامنے نہیں آتیں، تب تک سوالات اٹھتے رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آخری رسومات کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ نے ایک خط مرکزی وزیر کو ارسال کیا، جواب بھی آ گیا اور وہیں معاملہ ختم کر دیا گیا، جس سے شبہ مزید گہرا ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ دبایا جا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ریاست کو کل وقتی وزیرِ داخلہ نہ ہونے کے سبب قانون و نظم کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔ کویتا گینگ، وائلڈ مافیا، ڈرگز مافیا، آکا، کھوکے اور بشنوئی گینگ جیسی مجرمانہ طاقتیں اسی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت خود ایسی عناصر کو بالواسطہ طور پر تقویت دے رہی ہے، جس سے ریاست میں عوام کا تحفظ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading