بجٹ میں ترقی کو رفتار دینے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت: شرد پوار

ہندوستانی زرعی شعبے کو تمام طرح کے منفی اثر سے محفوظ رکھا جائے

انضمان کے تعلق سے فڑنویس کو بیان دینے کا کوئی حق نہیں

بارامتی: نیشنلسٹ کانگریس شردچندر پوار پارٹی کے قومی صدر شرد پوار نے کہا ہے کہ مرکزی بجٹ میں عام آدمی پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جو ایک حد تک اطمینان بخش بات ہے، مگر ترقی کو تیز رفتار بنانے کے لیے بجٹ میں مزید ٹھوس اور عملی اقدامات کی گنجائش موجود تھی۔ وہ بارامتی میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

شرد پوار نے کہا کہ گزشتہ 58 برسوں میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بجٹ کے دن وہ پارلیمنٹ میں موجود نہ رہے ہوں، مگر افسوس کہ اجیت پار کے حالیہ حادثے کے باعث وہ دہلی نہیں جا سکے، جس کی وجہ سے ایوان میں براہِ راست بجٹ سننے سے محروم رہے۔ مگر دستیاب معلومات اور مطالعے کی بنیاد پر چند نکات سامنے آتے ہیں۔ ان کے مطابق بجٹ میں کوئی ایسا نیا بوجھ عام آدمی پر نہیں ڈالا گیا جس سے اس کی مشکلات میں اضافہ ہو، لیکن مجموعی ترقی کے لیے مزید مضبوط پالیسی اقدامات کی توقع تھی۔

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ آنے والے ایک دو دن میں اس معاہدے کی مکمل تصویر واضح ہو جائے گی، جس کے بعد تفصیلی تبصرہ مناسب ہوگا۔ لیکن اب تک جو نکات سامنے آئے ہیں، ان میں یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو ہندوستان میں زرعی مصنوعات برآمد کرنے کی سہولت دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایک معاشی طور پر طاقتور ملک ہے اور اگر وہ کسی شعبے میں بڑے پیمانے پر برآمدات شروع کرتا ہے تو اس کا منفی اثر مقامی منڈی اور کسانوں پر پڑ سکتا ہے۔ شرد پوار نے واضح کیا کہ ہندوستانی زرعی شعبے پر کسی بھی قسم کا منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے، یہی ان کی اور ان جیسے کئی لوگوں کی توقع ہے۔

اجیت پوار کے مجوزہ ’اسمارک‘ کے حوالے سے شرد پوار نے کہا کہ اخبارات میں اس بارے میں خبریں شائع ہو رہی ہیں، لیکن انہیں اس سلسلے میں کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے کے صدر کی حیثیت سے اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوتا تو انہیں اس کا علم ہونا چاہیے تھا۔ فی الحال صرف غیر رسمی بات چیت سننے میں آئی ہے، اس معاملے پر آئندہ باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ممکنہ انضمام سے متعلق خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ اس پورے معاملے میں دیویندر فڑنویس کا کوئی کردار نہیں ہے، اس لیے انہیں اس موضوع پر بیان دینے کا کوئی حق نہیں۔ جب تک اس حوالے سے باقاعدہ کوئی گفتگو یا فیصلہ نہ ہو، تب تک اس طرح کے بیانات دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا نام اس بحث میں کیوں لیا جا رہا ہے، یہ بات بھی ان کی سمجھ سے باہر ہے۔

شرد پوار نے کہا کہ اس وقت پارٹی اور خاندان کے افراد کو حوصلہ دینا اور آگے کا راستہ طے کرنا سب سے اہم ہے۔ کسی بھی سیاسی فیصلے پر فی الحال کسی سے رسمی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ حلف برداری کے بعد ذمہ داریاں ملیں، اس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ حادثے کے حوالے سے شرد پوار نے واضح کیا کہ جب تک مستند اور مصدقہ معلومات سامنے نہیں آتیں، وہ بلا وجہ کسی قسم کے شبہات پیدا نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقائق کی بنیاد پر ہی کسی نتیجے پر پہنچنا درست ہوگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading