مرکز کی مودی حکومت کے خلاف ممبئی یوتھ کانگریس کا احتجاج
ممبئی: چین کے معاملے میں مرکز کی مودی حکومت کے غیر سنجیدہ رویے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ دیے جانے کے خلاف ممبئی یوتھ کانگریس کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا۔ یہ احتجاج ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین کی قیادت میں ممبئی کانگریس کے دفتر راجیو گاندھی بھون کے احاطے میں منعقد ہوا، جہاں مظاہرین نے مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
احتجاج کے دوران کارکنان نے مرکزی حکومت سے چین کے معاملے پر فوری اور واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی سے جڑے نہایت حساس معاملے پر حکومت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور سچ کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گلوان وادی کے واقعے پر بھی یہ سوال اٹھایا گیا کہ آخر وزیر اعظم نریندر مودی کیا حقائق چھپا رہے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے زینت شبرین نے کہا کہ چین کے معاملے پر مودی حکومت کو ملک کے سامنے اپنی پالیسی اور موقف واضح کرنا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل منوج نروَنے کی جانب سے 2020 کے چین تنازع سے متعلق کیے گئے انکشافات پر مبنی کتاب کو فوری طور پر شائع کیا جائے، تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق آرمی چیف کی کتاب میں اٹھائے گئے سنگین نکات پر پارلیمنٹ میں بات کرنے سے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو روکا جانا نہایت افسوسناک اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی واضح ہدایات کے باوجود مودی حکومت نے بروقت فیصلے نہیں کیے، جس کے نتیجے میں ملک کے بہادر جوانوں کو اپنی جانوں کی قربانی دینی پڑی۔
زینت شبرین نے مطالبہ کیا کہ ان جوانوں کی شہادت کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے فوجیوں کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور جب تک سچ سامنے نہیں آتا، یوتھ کانگریس کی جدوجہد جاری رہے گی۔ احتجاج میں ممبئی یوتھ کانگریس کے بڑی تعداد میں عہدیداران اور کارکنان شریک ہوئے، جنہوں نے مرکزی حکومت کے رویے کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کیا اور چین معاملے پر شفافیت کا مطالبہ دہرایا۔