۸ ستمبر کو عید میلادالنبیؐ کی عام تعطیل کا اعلان کیا جائے
سابق وزیر نسیم خان کا وزیر اعلیٰ و نائب وزرائے اعلیٰ سے تحریری مطالبہ
ممبئی: سابق وزیر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن محمد عارف (نسیم) خان نے ریاست کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس، نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے اور اجیت پوار کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ۸ ستمبر کو عید میلادالنبیؐ کی عام تعطیل کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔ نسیم خان نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اس سال مسلمانوں کا مذہبی تہوار عید میلادالنبیؐ اور ہندو بھائیوں کا تہوار اننت چترتھی ایک کے بعد ایک آرہے ہیں، اس لیے ریاست میں بھائی چارہ اور ہندو مسلم یکجہتی کو برقرار رکھنے کے مقصد سے ممبئی کی مختلف مسلم تنظیموں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا خلافت کمیٹی کی میٹنگ منعقد کی گئی۔ اس میٹنگ میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت کے موقع پر روایتی جلوس جو پہلے ۵ ستمبر کو نکلنے والا تھا، اسے مؤخر کرکے ۸ ستمبر کو نکالا جائے تاکہ دونوں برادریوں کے تہوار خوشی، امن اور ہم آہنگی کے ساتھ منائے جائیں۔
نسیم خان نے مزید وضاحت کی کہ گزشتہ برس بھی دونوں مذاہب کے تہوار قریب قریب ہونے کی وجہ سے عید میلاد کا جلوس آگے بڑھا دیا گیا تھا اور اس وقت بھی انہوں نے وزیراعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ کو خط لکھ کر جلوس کے دن عام تعطیل کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے حکومت نے تسلیم کرتے ہوئے تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی روایت کو جاری رکھتے ہوئے اس سال بھی جلوس کے دن یعنی ۸ ستمبر کو عید میلاد کی تعطیل سرکاری طور پر اعلان کی جائے تاکہ سماج میں ہم آہنگی اور مذہبی یکجہتی کا ماحول مزید مضبوط ہو۔
عوامی رہنما شہید وجے واکوڈے کے فرزند آشیش وجے واکوڈے کانگریس میں شامل
ممبئی: عوامی رہنما شہید وجے واکوڈے کے فرزند آشیش وجے واکوڈے نے آج سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ کانگریس پارٹی کے مرکزی دفتر تلک بھون میں باضابطہ طور پر کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال موجود تھے جنہوں نے آشیش واکوڈے اور ان کے ساتھیوں کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے دئیے ہوئے آئین کی روح کے مطابق ہندوستان کو تعمیر کرنے کا کام کانگریس پارٹی کر رہی ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اسی آئین کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اصل میں دو ہی ذاتیں ہیں۔ ایک آئین پر یقین رکھنے والے اور دوسرے منو وادی سوچ رکھنے والے۔ توڑو اور راج کرو بی جے پی اور دیویندر فڑنویس کی پالیسی ہے، جبکہ کانگریس پارٹی سبھی ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے والی پارٹی ہے۔ آئین کو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف راہل گاندھی مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ سومناتھ سوریہ ونشی اور وجے واکوڈے کی شہادت کے بعد راہل گاندھی نے پربھنی پہنچ کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور یہ پیغام دیا کہ اگر امبیڈکری سماج پر کسی بھی طرح کا ظلم ڈھایا گیا تو کانگریس کندھے سے کندھا ملا کر مضبوطی سے کھڑی ہوگی۔
راجیہ سبھا کے رکن چندرکانت ہنڈورے نے اس موقع پر کہا کہ راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے آئین کو گھر گھر تک پہنچایا ہے۔ بی جے پی کی حکومت آئین کے مطابق کام نہیں کرتی، یہ حقیقت بھی راہل گاندھی نے عوام کے سامنے رکھی ہے۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے نظریات کی جدوجہد آج کانگریس اور راہل گاندھی کر رہے ہیں، اور انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فرقہ پرست اور ذات پرست طاقتوں کے خلاف اس جدوجہد میں کانگریس کا ساتھ دیں۔ اس پروگرام میں راجیہ سبھا کے رکن چندرکانت ہنڈورے، سابق رکن پارلیمنٹ تکارام رنگے پاٹل، سابق رکن اسمبلی سوریش دیشمکھ، اقلیتی شعبے کے صدر وجاہت مرزا، پردیش کانگریس کے سکریٹری مجاہد خان، پربھنی شہر و ضلع صدر ندیم انعامدار، سُہاس پانڈت اور دیگر اہم لیڈران موجود تھے۔
MPCC Urdu News 28 August 25.docx