پریوشن کی بندش اور شہری آزادی – آئین کا امتحان
مذہبی عقائد کا احترام اپنی جگہ لیکن عوامی زندگی، شہری آزادی اور آئینی اصولوں پر قدغن ناقابل قبول

(آفتاب شیخ)
ممبئی میں جین ٹرسٹوں اور بی ایم سی کے درمیان پریوشن کے موقع پر مذبح خانوں کی بندش کا تنازع محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑے آئینی سوال کو جنم دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی مخصوص مذہب کے عقیدے یا تہوار کی بنیاد پر سبھی شہریوں کی روزمرہ زندگی اور خوراک کی آزادی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے؟
جین برادری کے جذبات اور ’’اہنسا‘‘ کے اصول قابلِ احترام ہیں۔ لیکن ایک جمہوری، سیکولر ملک میں احترام اور زبردستی میں فرق ہوتا ہے۔ آئین ہند کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے مگر یہ آزادی دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق سے ٹکرا نہیں سکتی۔ مسلمان، کولی- آگری، عیسائی، دلت، آدی واسی یا کوئی بھی گوشت خور طبقہ یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہے کہ آخر کیوں انہیں اپنی خوراک، روزگار اور کاروبار ترک کرنے پر مجبور کیا جائے؟
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گوشت فروشی اور مذبح خانے نہ صرف ایک بڑی آبادی کی غذائی ضرورت ہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی بھی انہی سے وابستہ ہے۔ اگر ریاست محض ایک مذہبی مطالبے کی بنیاد پر مکمل بندش نافذ کرتی ہے تو یہ نا صرف شہری آزادی پر قدغن ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی نقصان دہ ہوگا۔
عدالت نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ کسی بھی فیصلے کی بنیاد قانونی اور آئینی اصول ہونے چاہئیں، نہ کہ محض اخلاقی یا مذہبی دلائل۔ یہی ہندوستانی جمہوریت کی طاقت ہے کہ یہاں مذہب کا احترام ہے مگر ریاست کی پالیسیاں سب کے لئے یکساں ہونی چاہئیں۔
اس مقدمے کے ممکنہ اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالت بی ایم سی کے موقف کو درست قرار دیتی ہے تو یہ نظیر قائم ہوگی کہ شہری آزادی کو کسی مذہبی دباؤ پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر جین ٹرسٹوں کے مطالبے کو تسلیم کیا گیا تو یہ سلسلہ دوسرے شہروں تک بھی پھیل سکتا ہے اور مختلف مذاہب کی جانب سے ایسی ہی بندشوں کے مطالبے سامنے آ سکتے ہیں، جو ملک کے سیکولر ڈھانچے کے لئے چیلنج ثابت ہوگا۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور عدالتیں مذہب اور پالیسی کے درمیان ایک متوازن لکیر کھینچیں۔ مذہبی عقائد کا احترام اپنی جگہ لیکن عوامی زندگی، شہری آزادی اور آئینی اصول اس سے کہیں بھی متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ یہی ہندوستان کی سیکولر جمہوریت کی بنیاد ہے اور اسی پر ہمارا مستقبل قائم ہے۔