فکسر افسران اور وہ جن وزیروں کے ماتحت کام کرتے تھے، وزیر اعلیٰ ان کے نام ظاہر کریں
ممبئی اور مہاراشٹر کے اہم دفاتر کو ریاست کے باہر منتقل کر کے مہاراشٹر کی اہمیت کم کرنے کی مودی کی کوشش
ممبئی: پونے کے سوارگیٹ بس اسٹیشن پر ایک لڑکی کے ساتھ سرکاری بس میں عصمت دری کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ صرف بدعنوان افسران کی حفاظت میں لگے ہیں جبکہ خواتین کے تحفظ کا مسئلہ ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ پونے کے اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست میں قانون و انتظام کی حالت نہایت ابتر ہو چکی ہے۔ جو حکومت خود کو ’بہنوں کی سرکار‘ کہتی ہے، وہی خواتین کے تحفظ پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ریاستی حکومت پر یہ سخت تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔
تلک بھون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ممبئی میں اسکولی بچیوں پر جنسی حملوں کے واقعات نے ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، مگر حکومت نے اصل مجرموں کو بچانے کے لیے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ حکومت ہر مسئلے پر بات کرتی ہے، لیکن خواتین کے تحفظ جیسے سنگین معاملات پر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ 11 سال قبل دہلی میں ایک نوجوان لڑکی کی عصمت دری کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی غصہ دیکھنے کو ملا تھا، جس کے نتیجے میں ایک بڑا عوامی احتجاج ہوا۔ پونے کا واقعہ بھی اتنا ہی سنگین ہے، مگر حکومت کی لاپروائی کی وجہ سے ریاست میں خواتین غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔
تاریخ داں اندرجیت ساونت کو دی گئی دھمکی پر بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ دھمکی دینے والے کی زبان اور لہجے سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت کس نظریے کے لوگوں کو فروغ دے رہی ہے۔ کانگریس نے شیواجی جینتی کے موقع پر فلم ’چھاوا‘ کو ٹیکس فری کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے اس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا۔ آر ایس ایس کے سربراہ گولوالکر نے اپنی کتاب ’بَنچ آف تھاٹس’ میں اور ساورکر نے بھی چھترپتی سنبھاجی مہاراج کے خلاف توہین آمیز باتیں لکھی ہیں۔ چٹنیس بکھاری سے شروع ہونے والی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی سرکاری کوشش جاری ہے۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اندرجیت ساونت کو فون پر دھمکی دے کر کہا جاتا ہے کہ ’یہ ریاست ہماری ہے‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا مہاراشٹر میں ’گھاشی رام کوتوال‘ کا راج ہے؟ اگر گھاشی رام کوتوال ہی مہاراشٹر کے محکمہ داخلہ کو چلا رہے ہیں تو یہ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دھمکی دینے والے کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ وہ پولیس کے ریسٹ ہاؤس میں کس کی اجازت سے رہ رہا ہے؟ اسے سیکورٹی کیسے ملی؟ کون سے وزرائے اعلیٰ اور وزراء کے دور میں اس کی جائیداد بڑھی؟ یہ سب مہاراشٹر کے عوام جانتے ہیں۔ اگر سرکاری سرپرستی میں ایسے عناصر دھمکیاں دے رہے ہیں تو یہ سنگین معاملہ ہے اور وزیر اعلیٰ کو اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کچھ افسران کو ’فکسر‘ قرار دیا ہے جو وزراء کے ذاتی معاون، او ایس ڈی یا پی ایس کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس بیان کے بعد تمام افسران شک کی نظر سے دیکھے جا رہے ہیں، اس لیے وزیر اعلیٰ کو ان 16 افسران کے نام اور ان کے تعلق والے وزیروں کے نام بھی ظاہر کرنے چاہئیں۔
ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے ممبئی میں واقع پیٹنٹ آفس کو دہلی منتقل کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد سے ممبئی اور مہاراشٹر کی اہمیت کو کم کرنے کی مسلسل سازش ہو رہی ہے۔ اس کے تحت کئی اہم سرکاری دفاتر کو ریاست سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں سے زیادہ تر دفاتر گجرات لے جائے گئے ہیں۔ پالگھر میں قائم ہونے والا میری ٹائم پولیس ہیڈکوارٹر، ممبئی کا انٹرنیشنل فائنانس سینٹر اور دیگر 18 سے زائد اہم دفاتر ریاست سے باہر لے جائے جا چکے ہیں، اور اب پیٹنٹ آفس بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔ مودی حکومت مہاراشٹر کے وسائل پر ڈاکہ ڈال رہی ہے، جبکہ ریاستی حکومت میں بیٹھے ان کے ایجنٹ اس سازش میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔