کسان نہری پانی کے بھروسے پر ربیع فصلوں کی بوائی نہ کریں، محکمہ آبپاشی کی اپیل
ناندیڑ، 30 اکتوبر (ورق تازہ نیوز): کم بارش کے باعث پیدا ہونے والی خشک سالی جیسی صورتحال کے پیش نظر شنکر راؤ چوہان وشنوپوری پروجیکٹ میں موجود پانی کو سال 2026-27 کے لیے 31 اگست 2027 تک صرف پینے کے مقصد کے لیے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے باعث رواں سال ربیع کے موسم میں نہروں کے ذریعے فصلوں کی آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ محکمہ آبپاشی (شمالی) ناندیڑ نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نہری پانی کی امید پر ربیع فصلوں کی بوائی یا کاشت نہ کریں۔
محکمہ آبی وسائل حکومت مہاراشٹر کی جانب سے 5 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ حکم نامے کے مطابق وشنوپوری پروجیکٹ میں موجود تمام دستیاب آبی ذخیرے کو پینے کے پانی کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے۔ ضلع کلکٹر نے ناندیڑ میونسپل کارپوریشن اور دیہی علاقوں کی پانی سربراہی اسکیموں کے لیے بھی اس پروجیکٹ کا پانی مختص کیا ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں سال 2026-27 کے دوران وشنوپوری پروجیکٹ کی نہروں کے ذریعے ربیع فصلوں کی آبپاشی کے لیے پانی چھوڑنا ممکن نہیں ہوگا۔ لہٰذا پروجیکٹ کے آبپاشی والے علاقوں کے کسان نہروں کے ذریعے پانی دستیاب ہونے کی توقع پر ربیع فصلوں کی بوائی، کاشت یا دیگر زرعی سرگرمیاں انجام نہ دیں۔
محکمہ نے واضح کیا ہے کہ اگر کسان نہری پانی ملنے کی امید پر فصلوں کی بوائی یا کاشت کرتے ہیں اور بعد میں پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے انہیں نقصان ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری محکمہ آبی وسائل پر عائد نہیں ہوگی۔
خشک سالی جیسی صورتحال میں دستیاب آبی ذخیرے کا مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرنا اور شہریوں کو پینے کے لیے پانی فراہم کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت وشنوپوری پروجیکٹ کے زیر آبپاشی علاقوں کے تمام کسانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھیں اور محکمہ آبپاشی سے تعاون کریں۔
یہ اپیل ناندیڑ آبپاشی ڈویژن (شمالی) کے ایگزیکٹیو انجینئر سی آر بنسوڈ نے ایک عوامی اعلامیہ کے ذریعے کی ہے۔