MPCC Urdu News 21 January 26

ممبئی کی کمپنیوں سے معاہدوں کے لیے داؤوس جانے کی آخر ضرورت کیا تھی؟: ورشا گائیکواڑ

داؤوس کی سرمایہ کاری محض دکھاوا، داؤوس میں اب تک ہونے والے تمام سرمایہ کاری معاہدوں پر حکومت شفافیت کے لیے وائیٹ پیپر جاری کرے

ممبئی: ممبئی کانگریس کی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے بی جے پی مہایوتی حکومت اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں سرمایہ کاری لانے کے نام پر داؤوس جانا محض ایونٹ بازی اور عوامی پیسے کی نمائش ہے۔ جن کمپنیوں سے داؤوس میں معاہدے کیے گئے، ان میں سے بیشتر کمپنیاں خود ممبئی میں واقع ہیں، کچھ کے دفاتر تو منترالیہ سے چند قدم کے فاصلے پر ہیں، پھر ایسی صورت میں سوئٹزرلینڈ جا کر معاہدے کرنے کی آخر کیا منطق ہے؟

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پہلے ہی دن 14.50 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور تقریباً 15 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے دعوے کیے ہیں۔ ان کے مطابق جن کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کا اعلان کیا گیا، ان میں لوڈھا ڈیولپرز کے ساتھ ایک لاکھ کروڑ روپے، کے رہيجا گروپ کے ساتھ 80 ہزار کروڑ روپے اور آلٹا کیپیٹل پنچ شیل کمپنی کے ساتھ تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کے معاہدے شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں نہ صرف مہاراشٹر بلکہ خود ممبئی میں سرگرم ہیں، تو پھر داؤوس جا کر انہی کمپنیوں سے معاہدے کرنا عوام کے پیسے کا بے جا استعمال نہیں تو اور کیا ہے؟

ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ مہاراشٹر میں سرمایہ کاری آنا سب کی خواہش ہے اور کانگریس اس کا خیر مقدم کرے گی، لیکن حکومت جو دعوے کر رہی ہے اور جو زمینی حقیقت ہے، اس میں جو فرق ہے اور اس فرق کو عوام کو جاننے کا حق ہے۔ گزشتہ برس بھی حکومت نے داؤوس میں 16 لاکھ کروڑ روپے کے سرمایہ کاری معاہدوں کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اگر واقعی اتنی بڑی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہوتے تو آج ریاست میں بے روزگاری کم کیوں نہیں ہوئی؟ نوجوانوں کو روزگار کے لیے در بدر کیوں بھٹکنا پڑ رہا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت داؤوس میں اب تک کیے گئے تمام سرمایہ کاری معاہدوں پر تفصیلی وائیٹ پیپر جاری کرے، جس میں یہ واضح کیا جائے کہ کن معاہدوں پر واقعی عمل درآمد ہوا، کتنی سرمایہ کاری حقیقت میں ریاست میں آئی اور اس کے نتیجے میں کتنے روزگار پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ محض بڑے اعداد و شمار پیش کرنا کافی نہیں، بلکہ عوام کے سامنے سچ اور شفاف تصویر رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

MRCC Urdu News 21 January 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading