ایکشن پروگرام پارٹی کی مضبوطی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا: بالاصاحب تھورات
سیاسی بحث اور انتخابی نظام کے لیے کمیٹی بنائی جائے گی: اشوک چوہان
شرڈی ورکشاپ میں لیے گئے فیصلوں کو ضلعی سطح پر سختی سے نافذ کیا جائے گا
ممبئی:ادئے پور میں منعقدہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے نئے سنکلپ کیمپ کی طرز پرریاستی کانگریس نے یکم اور 2 جون کو شرڈی میں دو روزہ سنکلپ ورکشاپ کا انعقاد کرتے ہوئے کئی فیصلے لیے تھے۔ اب ان فیصلوں کو ریاست میں ضلعی سطح پر سختی سے نافذ کیا جائے گا۔یہ اطلاع آج یہاں ریاستی کانگریس کے صدرناناپٹولے نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ’بھارت توڑ‘ مہم کا جواب کانگریس ’بھارت جوڑو‘ مہم کے ذریعے دے گی۔شرڈی کیمپ میں منظور کی گئی قرارداد اور ایکشن پروگرام کے ذریعے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے ریاست بھر میں 100/دن کا ایکشن پروگرام لاگو کیا جائے گا۔
اس ضمن میں گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں ریاستی صدر کے علاوہ کانگریس لیجسلیچر لیڈر بالاصاحب تھورات، سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، اشوک چوہان، سابق وزیر نتن راؤت، وجے وڈیٹی وار، ورشا گائیکواڑ، ڈاکٹر وشواجیت کدم، ریاستی کارگزار صدر نسیم خان، چندرکانت ہنڈورے، نائب صدر موہن جوشی، چیف ترجمان اتل لونڈھے، جنرل سکریٹری دیوآنند پوار، پرمود مورے،ترجمان راکیش شیٹی اور کئی لیڈران موجود تھے۔
اس موقع پر نانا پٹولے نے کہا کہ ادئے پور ورکشاپ کی طرز پر شرڈی میں منعقد ورکشاپ میں ۶ گروپ بنائے گئے تھے۔ان گروپوں نے کافی غور وخوض کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی جسے اب شرڈی اعلامیے کے مطابق نافذ کرنے کا پروگرام تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مہنگائی، بے روزگاری، معیشت، اگنی پتھ اسکیم، ضروری اشیاء پر جی ایس ٹی لگانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ 9 سے 15 اگست تک اضلاع میں پدا یاترا نکال کر عوامی بیداری پیدا کی جارہی ہے۔ ساتھ ہی 2 اکتوبر سے ’بھارت جوڑو‘ مہم شروع کی جائے گی۔ نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس کے خیالات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچاتے ہوئے لوگوں کو مرکزی حکومت کی ناکامی سے بھی واقف کروایا جائے گا۔
کانگریس لیجسلیٹیو پارٹی کے لیڈر بالا صاحب تھورات نے کہا کہ شرڈی ورکشاپ میں ریاست بھر سے 300 مندوبین نے حصہ لیا تھا۔ دو روزہ غوروفکرکے بعد کانگریس کو مزیدمضبوط کرنے کے لیے ایک پروگرام تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو موثر انداز میں نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت ہم عوام کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ ان تمام پروگراموں کو 100 روزہ ایکشن پروگرام کے تحت کامیابی کے ساتھ نافذ کیا جائے گا۔
سابق وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے سیاسی امور کے سربراہ اشوک چوہان نے کہا کہ ریاست میں مقامی سطح پر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کے تعلق سے ضلعی سطح پر جائزہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، اس کے بعد اتحادکے بارے میں ریاستی سطح پر فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن انتظامیہ کمیٹی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے نظریات کی ترویج و تشہیر کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اقتصادی امور کے گروپ کے سربراہ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ مرکزی حکومت ملک میں اقتصادی صورتحال کو سنبھالنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے اورمعیشت پر اپنا کنٹرول کھو چکی ہے۔ حکومت کا پروگرام لئے ہوئے قرض پر سود دینا اور نیا قرض لینا بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے پاس ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، اس کے لیے ان کے پاس ٹیکسوں میں اضافہ اور سرکاری کمپنیوں کو فروخت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرڈی قرارداد میں شہری علاقوں میں منریگا جیسی اسکیموں کے نفاذ کی سفارش کی گئی ہے۔ کانگریس پارٹی نے اپنے 2019 کے لوک سبھا انتخابی منشور میں ’نیائے یوجنا‘ کا ذکر کیاتھا۔ جس کا نفاذ کانگریس کی حکومت والی ریاستوں میں جاری ہے اور اس اسکیم کو مہاراشٹر میں بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔
یوتھ اینڈ ویمن رائٹس گروپ کی سربراہ پروفیسر ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ سیاست میں نوجوانوں کی فعال شرکت بڑھانے کے لیے کالج کے انتخابات دوبارہ کرائے جانے چاہئیں۔ اعلامیے میں مختلف پروگراموں کی سفارش کی گئی ہے جن میں راجیو گاندھی یوا سمواد، خواتین کے لیے صحت کارڈ، دیہاتوں میں اندرا گاندھی مہیلا بھون کی تعمیر وغیرہ شامل ہے تاکہ نوجوانوں کو کانگریس پارٹی کے بنیادی نظریے میں شامل کیا جا سکے۔ریاستی صدر کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو شرڈی اعلامیہ کے صحیح نفاذ کی نگرانی کرے گی۔
شدید بارش سے متاثرہ افراد کی فوری مدد کی جائے
کانگریس وفد کا وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ سے مطالبہ
ریاست میں گزشتہ 15-20 دنوں میں زبردست بارش ہوئی ہے۔ اس کے پیش نظر کانگریس کے وفد نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ملاقات کی اور بھاری بارش سے مرنے والوں کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے اور بارش سے متاثر کسانوں کو 50 ہزار روپے فی ہیکٹر دینے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی باغبانی کے کسانوں کو ایک لاکھ روپے کی فوری مدد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔کانگریس کے لیڈران کی طرف سے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کومیمورنڈم دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کو بجلی کی شرح میں اضافہ کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔ ترقیاتی منصوبوں اور ترقیاتی کاموں پر عائد پابندی بھی فوری طور پر ہٹائی جانی چاہئے۔ اندور املنیر بس حادثہ میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کی مدد کی جانی چاہئے۔اس کے علاوہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔