نئی دہلی:18۔ جولائی ـ( ایجنسیز) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابق ترجمان نوپور شرما ایک بار پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنے بیان پر سپریم کورٹ پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے ان کے خلاف درج 9۔ ایف آئی آر میں گرفتاری پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
نوپور شرما نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے غیر متوقع اور سخت تنقید کے بعد ان کی جان کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور انہیں ریپ کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ چونکہ دہلی میں ایف آئی آر پہلی تھی۔ اس لیے دیگر مقامات پر درج ایف آئی آر کو دہلی کے کیس سے جوڑا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے نوپور شرما کے بارے میں کیا کہا؟
اس سے قبل یکم جولائی کو سپریم کورٹ نے نوپور شرما کو پیغمبر اسلام ﷺکے بارے میں مبینہ ریمارکس کے معاملے میں کئی ریاستوں میں درج درجنوں ایف آئی آر کی تحقیقات کے لیے دہلی منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نوپور شرما کی سرزنش کی تھی۔
جسٹس سوریہ کانت اور جے بی پاردی والا کی تعطیلاتی بنچ نے بی جے پی کے سابق ترجمان پر قومی ٹیلی ویژن پر ایک مخصوص مذہبی طبقہ کے بانی کے خلاف "تضحیک آمیز” تبصرہ کرنے پر تنقید کی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ ایک اکیلی عورت کی وجہ سے آج پورے ملک میں کشیدگی ہے اور ماحول خراب ہوا ہے۔ عدالت کے ان تیکھے تبصروں کے بعد نوپور شرما نے درخواست واپس لے لی۔ اب وہ راحت کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ پہنچی ہیں۔