ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے وقت بند پروگرام کا اعلان کیا جائے اور تلنگانہ اور کرناٹک ماڈل کو نافذ کیا جائے: ہرش وردھن سپکال
ذات پر مبنی مردم شماری کے بعد مراٹھا ریزرویشن کا مسئلہ حل ہو جائے گا
راہل گاندھی کے قافلے کو روکنا آمرانہ طرزِ عمل ہے، بنیادی حقوق پر حملہ ہے
کرنل صوفیہ کی توہین کرنے والے وزیر وجے شاہ کو فوری برطرف کر کے ان پر غداری کا مقدمہ درج کیا جائے
ممبئی: “جس کی جتنی آبادی، اس کی اتنی حصے داری” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا پُرزور مطالبہ کیا تھا۔ بی جے پی نے مسلسل اس مطالبے کی مخالفت کی، مگر آخرکار بی جے پی حکومت کو یہ مطالبہ تسلیم کرنا پڑا۔ ذات پر مبنی مردم شماری کے ذریعے تمام طبقات کو درپیش ریزرویشن کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مردم شماری کا ایک وقت بند پروگرام جاری کرے اور تلنگانہ و کرناٹک ماڈل کو نافذ کرے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔
تلک بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری محض ایک گنتی کا عمل نہیں، بلکہ ایک سماجی ایجنڈا ہے۔ مہاراشٹر میں او بی سی طبقے کی آبادی 27 فیصد سے بڑھ کر 64 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس مردم شماری کے ذریعے ہر طبقے کی حقیقی آبادی سامنے آئے گی اور پٹیدار، گوجر، مراٹھا ریزرویشن جیسے سلگتے ہوئے مسائل کو سلجھانے میں مدد ملے گی۔ بی جے پی حکومت کو یہ فیصلہ لینا پڑا، جس کا مکمل سہرا راہل گاندھی کو جاتا ہے، جنہوں نے اس مطالبے کا مسلسل پیچھا کیا، جس کے باعث مودی حکومت کو جھکنا پڑا۔ حکومت کو اس پورے عمل کی تفصیلات، معلومات جمع کرنے کے طریقے اور اس سے متعلق افسران و اہلکاروں کی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
راہل گاندھی کے قافلے کو روکنا آمرانہ طرزِ عمل ہے
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی بہار میں ’مہاجرت روکو، نوکری دو‘ مہم کے سلسلے میں جا رہے تھے، اس دوران ان کے قافلے کو پولیس نے روک دیا۔ اس واقعے سے اقتدار کا غرور صاف ظاہر ہوتا ہے۔ طلبا سے مکالمہ کرنے جانا کون سا جرم ہے؟ لیکن بی جے پی کی قیادت والی حکومت جمہوری اقدار کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔ یہ تمام کارروائی آمرانہ ہے اور بنیادی حقوق پر کاری ضرب ہے۔ کانگریس پارٹی اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔
بی جے پی وزیر وجے شاہ پر غداری کا مقدمہ درج کیا جائے
مدھیہ پردیش کے بی جے پی وزیر وجے شاہ کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی کے وزیر نے کرنل صوفیہ کے خلاف نہایت توہین آمیز زبان استعمال کی، جس کے باعث انہیں نہ صرف وزارت بلکہ پارٹی سے بھی فوراً برطرف کیا جانا چاہیے۔ مگر بی جے پی کی مرکزی قیادت انہیں بچانے میں مصروف ہے۔ معزز ہائی کورٹ نے ان پر مقدمہ درج کرنے کے احکامات دیے، اس کے باوجود وہ بے شرمی کے ساتھ سپریم کورٹ چلے گئے۔ تاہم سپریم کورٹ نے بھی انہیں سرزنش کی۔ یہ ملک کی عزت کا سوال ہے، اس لیے ان پر غداری کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے اور فوری طور پر کابینہ سے ہٹایا جانا چاہیے۔
اس سے قبل آج صبح کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے یونیسیف پروجیکٹ کی سابق تعلیمی افسر وجیاتائی چوہان سے ملاقات کی۔ 2002 میں، جب وہ ضلع بلڈھانہ کی ضلع پریشد کے صدر تھے، تو انہوں نے تعلیمی ترقی کے لیے کئی اہم اقدامات کیے تھے، جن میں وجیاتائی کی رہنمائی اور قیمتی تعاون ہمیشہ یادگار رہا۔ آج ممبئی میں انہوں نے خصوصی دعوت دے کر پُرخلوص ناشتے کا انتظام کیا اور ساتھ ہی پارٹی فنڈ کے لیے 5000 روپے کا عطیہ چیک کے ذریعے پیش کیا، یہ بات سپکال نے پریس کانفرنس کے اختتام پر کہی۔