مہاراشٹر کو پولیس اسٹیٹ بنانے کی حکومت کی کوشش
کیا کنال کامرا کا پروگرام دیکھنا جرم ہے؟ ہرش وردھن سپکال کا سوال
’چور آزاد، سنت سولی پر‘ یہی ہے مہایوتی حکومت کی پالیسی
وزیر داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس محض نمائشی پتلے، مخالفین پر فوری کارروائی، مگر جرائم پیشہ آزاد
ممبئی: کانگریس حکومت کے دوران مہاراشٹر میں پولیس کا دبدبہ تھا اور ممبئی پولیس کا اسکاٹ لینڈ یارڈ سے موازنہ کیا جاتا تھا۔ لیکن جب سے دیویندر فڑنویس کے ہاتھوں میں وزارت داخلہ کی باگ ڈور آئی ہے، ریاست میں قانون و انتظام کی حالت ابتر ہوچکی ہے۔ اسٹینڈ اَپ کامیڈین کنال کامرا کی طنزیہ شاعری نے حکومت کو بے چین کر دیا ہے اور اب خبر ہے کہ کامرا کے پروگرام میں شریک ناظرین کو بھی نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔ ناظرین کو نوٹس بھیجنا مہاراشٹر میں پولیس اسٹیٹ کے قیام کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ حکومت پر یہ سخت حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا ہے کہ جب ایک مزاحیہ فنکار کسی سیاسی لیڈر پر طنز کرے تو اسے بڑے ظرف سے قبول کرنا چاہیے اور اسے محض ایک مذاق سمجھنا چاہیے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم بھارت رتن پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی پر بھی طنز کیے گئے، لیکن کسی فنکار یا ناظر کو اس طرح ہراساں نہیں کیا گیا۔ کنال کامرا نے ایکناتھ شندے کا نام تک نہیں لیا، پھر بھی ان کی پارٹی توڑ پھوڑ پر اتر آئی۔ کامرا کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ محض پروگرام دیکھنے گئے، وہ کس قصور کے مرتکب ہوئے؟ کامرا کو دھمکیاں دینے والے اور اسٹوڈیو میں توڑ پھوڑ کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں اور پروگرام کے ناظرین کو پولیس کی اذیت کا سامنا ہے۔ یہ کون سا انصاف ہے؟ مہاراشٹر کو پولیس اسٹیٹ میں بدلنے کی یہ سازش فوری روکی جائے۔ حکومت کی پالیسی ’چور آزاد، سنت سولی پر!‘ کی نظر آتی ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ بی جے پی اتحاد کی حکومت کو تین ماہ ہو چکے ہیں اور ان تین مہینوں میں بیڑ اور پربھنی میں قتل کی وارداتیں ہوئیں، ممبئی میں سابق وزیر کا قتل ہوا، سیلیبریٹیز کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اداکار سیف علی خان پر گھر میں گھس کر قاتلانہ حملہ ہوا۔ سوارگیٹ کے بس اسٹیشن پر ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی۔ مہاراشٹر میں سیلیبریٹی سے لے کر سرپنچ تک کوئی محفوظ نہیں۔ ’کوئتا گینگ‘، ’آکا‘، ’کھوکیا‘ جیسی گینگیں کھلے عام دہشت پھیلا رہی ہیں، لیکن محکمہ داخلہ اور پولیس جرائم پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ پونے جیسے شہروں سے لے کر دھاراشیو کے دیہی علاقوں تک کھلے عام منشیات فروخت ہو رہی ہیں، مگر اس پر قابو نہیں پایا جا رہا ہے۔ دیویندر فڑنویس کا داخلہ محکمے پر کوئی کنٹرول نہیں، ان کے پولیس اہلکار صرف مخالفین پر کارروائی، ان کے فون ٹیپ کرنے، جمہوری مظاہروں کو دبانے اور عام شہریوں کو ہراساں کرنے میں مصروف ہیں۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ برسرِ اقتدار جماعت کے وزرا کھلم کھلا دھمکیاں دیتے ہیں، مگر وزیر داخلہ دھرت راشٹر کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھے بیٹھے ہیں۔ وزیر داخلہ اور پولیس ڈائریکٹر جنرل دونوں محض نمائشی پتلے بن چکے ہیں۔ فڑنویس کو داخلہ محکمے پر توجہ دینے کا وقت نہیں ملتا، اضافی ذمہ داری ان سے سنبھالی نہیں جا رہی۔ انہیں ریاستی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مکمل وقتی اور باصلاحیت وزیر داخلہ مقرر کرنا چاہیے اور توسیع شدہ مدت پر کام کرنے والے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو عزت کے ساتھ سبکدوش کرکے ایک نیا، باصلاحیت اور غیر جانبدار افسر تعینات کرنا چاہیے۔