ایم آئی ایم اور بھارپ بہوجن مہا سنگھ کااتحاد:آئندہ 2اکتوبر کو اعلان متوقع

0 12

اورنگ آباد میں ایم ایل اے امتیاز جلیل کی بھارپ بہوجن کے ذمہ داروں کے ساتھ پریس کانفرنس

اورنگ آباد:15ستمبر(جمیل شیخ):جیسے جیسے پارلیمانی اور لوک سبھا انتخابات2019 قریب آتے جارہے ہیں ۔ویسے ویسے سیاسی اتھل پتھل میں بھی گرمی آگئی ہیں۔پورے ملک میں ویسے تو برسرکار بی جے پی نے اپنے ایجنڈے پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ شہر اورنگ آباد میں بی جے پی نے پی ایم کے حکم کے مطابق ہر بوتھ پر20 لوگ ذمہ دار رہیں گے اور ان کا کام صرف یہی ہوگا کہ اپنی ذمہ داری پر ۰۱ لوگوں کو ووٹ کرواکر گھر پہنچانے کی فکر کریں۔اور اس طرح سے وہ اپنی سیٹوں کو مضبوطی کی طرف پہنچانے کی پوری پوری فکر کریں گے۔اسی طرح اورنگ آباد میںایم آئی ایم نے انتخابات کے پیش نظر بھارپ بہوجن مہاسنگھ کے ساتھ گٹھ بندھن کرلیا ہے۔جس کا باضابطہ اعلان 2 اکتوبر کو متوقع ہے۔دونوں پارٹیاں اپنی سطح پرمضبوط ہے۔جب سے ایم آئی ایم کی مقبولیت میں اضافہ ہوتاگیالوگ پارٹی سے جڑتے گئے۔اسی کے ساتھ گذشتہ کچھ انتخابات میں ایم آئی ایم تنہا انتخاب لڑا جس میں کچھ حد کامیابی ملی لیکن جتنی امید لگائی جاتی ہے اُتنی کامیابی نہیں ملی۔سیاسی مبصرین کی مانے تو وہ ہمیشہ یہی صلاح دیتے رہے کہ ایم آئی ایم پارٹی کسی اور پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے انتخابات میں حصہ لیں تو صورتحال کچھ اور ہوگی۔لیکن ابھی تک ایسانہیں ہواتھا۔لیکن گذشتہ کچھ روز سے ایم آئی ایم اور بھارپ بہوجن مہاسنگھ کے بیچ اتحاد کی خبریں گشت کررہی تھی۔جس کا باقاعدہ طور پر ایم آئی ایم کی طرف سے اعلان کردیاگیاہے کہ ایم آئی ایم اور بھارپ بہوجن مہاسنگھ آپس میں اتحاد کرکے آئندہ ودھان سبھا اور لوک سبھا ایک ساتھ لڑیں گے۔اس فیصلے سے فی الحال ریاست میں سیاست میں گہماگہمی بڑھ گئی ہے۔اتحاد کے تعلق سے ایم ایل اے امتیازجلیل نے معلومات دی ہے اور کہاہے کہ آئندہ 2اکتوبر کے روز ایم آئی ایم صدر اسدالدین اویسی اور بھارپ بہوجن مہاسنگھ کے صدر پرکاش امبیڈکر کی میٹنگ ہوگی۔بتادیں کہ اس سے پہلے پرکاش امبیڈکر کے پونہ والے گھر پر اس معاملے میں دوبارمیٹنگ ہوچکی ہے۔اس اتحاد کی قیادت پرکاش امبیڈکرکریں گے۔اس طرح کی معلومات امتیازجلیل نے دی ہے۔اس اتحاد سے کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کوجھٹکہ لگنے کے پورے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ایم آئی ایم اور بھارپ بہوجن مہاسنگھ دونوں پارٹیاں اتحاد کرکے ریاست میں ہونے والے آئندہ ودھان سبھا اور لوک سبھااور مہانگرپالیکا کے انتخابات میں حصہ لیں گے۔آج ہوئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امتیاز جلیل نے کہا کہ ہر بار مسلمانوں اور دلتوں کو پچھڑا ہوا جان کر مزید انہیں پچھڑا بنانے کے در پہ شیوسینا بی جے پی نہ اقلیتیوں کی ترقی کا کچھ سوچتی ہے اور نہ ہی انہیں اقتدار میں کسی قسم کی حصہ داری دی جاتی ہے۔ پچھلے 70 سالوں سے الیکشن میں صرف ووٹ حاصل کرنے کے لئے دلتوں اور مسلمانوں کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب دلت اور مسلمان جاگ گئے ہیں وہ اپنی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگا چکے ہیں اس لئے ہم نے مل کر یہ طئے کیا کہ اپنی بقاءکی جدوجہد کے لئے اقلیتوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ضروری ہوگا اور اس کا باقاعدہ2 اکتوبر کو اعلان بھی کردیا جائے گا۔