رسوئی گیس اور سی این جی ، اگلے مہینے سے مہنگے

0 1
اتنے روپے زیادہ ادا کرنے پڑیں گے

نئی دہلی:21ستمبر۔(ایجنسیز) ملک بھر میں ایک طرف جہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں وہیں دوسری جانب ڈالر کے مقابلہ روپے کی قدر میں بھی کافی کمی ا?گئی ہے ، جس کا اثر اب سی این جی اور پی این جی کی قیمتوں پر پڑنے والا ہے۔ملک بھر میں ایک طرف جہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں وہیں دوسری جانب ڈالر کے مقابلہ روپے کی قدر میں بھی کافی کمی ا?گئی ہے ، جس کا اثر اب سی این جی اور پی این جی کی قیمتوں پر پڑنے والا ہے۔ گھریلو قدرتی گیس کی قیمتوں میں اکتوبر میں تبدیلی ہونے والی ہے ، جس کے بعد اس کی قیمتوں میں اضافہ کا امکان ہے۔گھریلو فیلڈس سے نکلنے والی گیس کی بنیادی قیمت میں 14 فیصد یعنی 3.5 ڈالر ( تقریبا 252 روپے ) فی یونٹ اضافہ کا امکان ہے۔ مارچ 2016 میں گیس کی قیمتوں میں سب سے زیادہ 3.82 ڈالر ( ابھی کے حساب سے تقریبا 275.17 روپے ) فی یونٹ کا اضافہ ہوا تھا۔ قدرتی گیس کی قیمتیں گیس سرپلس مارکیٹس جیسے یو ایس ، کناڈا ، یو کے اور روس میں موجود ایوریج ریٹس کی بنیاد پر ہر چھ مہینے میں طے کی جاتی ہیں۔کمزور روپے کی وجہ سے سبھی شہروں میں سی این جی اور پی این جی کی قیمتیں بڑھیں گی۔ روپے کی قدر میں گراوٹ سے سی این جی اور پی این جی سروسز پرووائیڈرس کیلئے قدرتی گیس مہنگی ہوجاتی ہیں ، جس کی وجہ سے وہ قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ دہلی میں سی این جی کی قیمتوں میں تین مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ تین مرتبہ اضافہ میں سی این جی کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 2.89 روپے فی کلو کا اضافہ ہوگیا ہے۔