تن من اور روح کی ورزش، دل کو رکھے جوان

یوگا زندگی کا حصہ بنا کے دیکھئے یہ جسمانی اور سانس کی ورزش ہے جو ذہن اور بدن میں آکسیجن پیدا کرتی ہےاور یہ تن من اور روح کی ورزش ہے۔ یوگا سے صحت کو ملنے کے بھی متعدد فوائد ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مادی اور روحانی زندگی میں تمام کامیابیوں کی بنیادی شرط … Read more

الٹراساؤنڈ مشین اب ایک کیپسول میں، تکلیف دہ اور پیچیدہ اینڈواسکوپی پر بھی انحصار کم

سائنسدانوں نے پوری الٹراساؤنڈ مشین کو ایک کیپسول میں سمودیا ہے جس کے بعد تکلیف دہ اور پیچیدہ اینڈواسکوپی پر انحصار کم ہوجائے گا۔ عین کیپسول کی جسامت کا یہ آلہ جسم کے باہر سے مقناطیس کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتا ہے یعنی مقناطیسی میدان سے اسے ایک مقام سے دوسرے پر منتقل کرسکتا ہے۔ … Read more

ڈپریشن اور لوگوں میں پائی جانے والی غلط فہمیاں

متعدد افراد کو ذہنی تشویش اور مایوسی (ڈپریشن) کا زندگی کے مختلف مراحل کے دوران سامنا ہوتا ہے جو جسمانی وزن بڑھانے کے ساتھ دیگر امراض کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔ دنیا میں کونسا انسان ہے جو دکھ، مالیاتی مشکلات اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی بنا پر اس ذہنی کیفیت کا شکار … Read more

کیا 320 کلو کے نورالحسن کا وزن کم ہو سکے گا؟

نور الحسن کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ انھیں لاہور منتقل کرنے کے لیے گھر کی بیرونی دیوار توڑ کر نکالا گیا، جب کہ ہیلی پیڈ تک انھیں مال بردار گاڑی کے ذریعے پہنچایا گیا۔

کیا آپ بھی دماغی اور دیگر خطرناک بیماریوں سے بچنے کیلئے روزانہ برش کرتے ہیں

بعض ناقابلِ تردید شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ منہ کی صحت اور دماغی امراض کے درمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے۔ اب اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ روزانہ باقاعدگی سے دانتوں کو صاف رکھنے سے الزائیمر اور دیگر دماغی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ ناروے کی … Read more

پاکستان ایڈز کے پھیلاؤ میں ایشیا پیسیفک کا دوسرا بڑا ملک

ایچ آئی وی ایڈز سے بچنے کے لیے حفاظتی طریقوں کو بہتر بنانے اور ایچ آئی وی کے مریضوں کو معاشرے کے امتیازی سلوک سے بچانے کے لیے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اے سی کے بغیر گرمی سے بچانے میں مددگار آسان ٹپس

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گرم موسم کو برداشت کرنا کسی کے بس کی بات نہیں بلکہ اکثر راتوں کی نیند بھی آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ ہر وقت پسینے کا اخراج الگ پریشان کرتا ہے اور لوڈشیڈنگ اس مشکل کو مزید بڑھا دیتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ائیرکنڈیشنر کے بغیر … Read more

دنیا کی آبادی 2050ء تک 10 ارب تک پہنچنے کا امکان

آئندہ 31 برسوں میں آبادی میں متوقع اضافے کے اعتبار سے سرِ فہرست ملکوں میں پہلے نمبر پر بھارت، دوسرے پر نائیجیریا اور تیسرے پر پاکستان ہے۔

پاکستان کے 40 فی صد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں: سروے

سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر 10 میں سے 4 بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ غذائی کمی میں مبتلا بچوں کی تعداد 40 اعشاریہ دو فی صد ہے جن میں لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے۔

بچے بیمار، ویکسین کمروں میں بندد، سندھ محکمہ صحت کا جانیے حال

بچے بیمار ہوتے رہے اور ویکسین بند کمروں میں خراب ہوتی رہی، اسکول کے بچوں کو ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے خریدی گئیں 24 ہزار ویکسینز تاحال استعمال نہ ہوسکیں۔ تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں اسکول کے بچوں کو ہیپاٹائٹس سے بچانے کے لیے دو سال قبل بڑی مقدار میں حکومت نے ویکسین خریدی تھی … Read more

انشورنس سیکٹر سے متعلق ہوا اہم فیصلہ

 سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے انشورنس سیکٹر کے فروغ کے لیے اصلاحات کے تحت وفاقی حکومت کو ملک کے تمام نجی اداروں کے ملازمین کے لیے صحت بیمہ کو لازمی قرار دینے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ ایس ای سی پی حکام کا کہنا ہے کہ ایس ای سی پی نے … Read more

بھولنے کی بیماری کا تعلق، دانت صاف کرنے سے

ماہرین نے کہا ہے کہ روزانہ باقاعدگی سے دانتوں کو صاف رکھنے سے الزائیمر اور دیگر دماغی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ ناروے کی یونیورسٹی آف برجن کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ روزانہ دانتوں کو صاف رکھتے ہوئے نہ صرف آپ اپنے دانت بچاسکتے ہیں بلکہ خود کو الزائیمر سمیت کئی امراض سے بھی … Read more

ایبولا کے دنیا میں پھیلنے کا خطرہ نہیں: ڈبلیو ایچ او

کانگو میں پھیلنے والی ایبولا کی حالیہ وبا سے گزشتہ سال اگست سے اب تک 2100 سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں 1411 افراد اب تک موت کا شکار ہوئے ہیں۔

درختوں بھرے پارک، سرسبز علاقے رکھے ذہن کو تر و تازہ

درختوں بھرے پارک میں دو گھنٹے گزارنے سے جسمانی اور ذہنی سطح پر خوشی اور صحت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اگرچہ فطرت اور قدرتی نظاروں میں وقت گزارنے کے صحت پر اثرات باقاعدہ طور پر رپورٹ ہوئے ہیں۔ تاہم اس سروے سے قبل کسی نے بھی پارک میں جانے اور بیٹھنے کے اثرات کے … Read more

چند لوگ ہوا بھی کھائیں تو موٹے، کچھ لوگ کھا کھا کر بھی پتلے آخر کیوں؟ بالآخر سائنس نے پتہ لگا لیا

ایک عجیب و غریب بات ہے کہ کچھ لوگ جو جی چاہے، کھاتے ہیں اور پھر بھی دبلے پتلے رہتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے لیے پانی بھی دیسی گھی ثابت ہوتا ہے اوروہ معمولی خوراک کھانے سے بھی بہت موٹے ہو جاتے ہیں۔ اب بالآخر سائنسدانوں نے اس کا راز دریافت کر لیا ہے۔ … Read more

کراچی میں اتنی گرمی کیوں پڑ رہی ہے؟

ان دنوں کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو بحیرۂ عرب میں بننے والا ‘وایو’ نامی طوفان ہے جس نے اس وقت سمندری ہواؤں چلنے سے کو روکا ہوا ہے۔

بھارت کا اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے کا اعلان

بھارتی خلائی ادارے نے 2022 میں اپنے تین خلاباز بھیجنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنی پہلی انسانی خلائی پرواز روانہ کرے گا تو اس کے لیے اسے ایک اپنے خلائی اسٹیشن کی ضرورت ہو گی۔

الووں کے ذریعے علاج

آسمان میں اڑتی مادہ ایک الو (نام :ویلو) نیچے کی جانب آتے ہوئے نو آموز پرندوں کے شوقین کے بازو پہ بیٹھ گئی ۔’ کیا یہ خوبصورت نہیں ہے؟‘ شوقین نے پوچھا۔ وہ اپنے دوسرے ہاتھ میں ایک اعصا تھامے ہوئے کھڑے تھے، کہنے لگے: الو یقینا آسمان کا ایک عجوبہ ہیں۔کینسر سے متاثرہ زیر … Read more

ڈیٹنگ ایپ جنسی بیماریاں پھیلانے کا سبب ہیں، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2016 کے دوران کلائمیڈیا، گنوریا، ٹرائکوموناسس اور سفلسس جیسی بیماریوں کے 37 کروڑ ساٹھ لاکھ کیسز سامنے آئے۔

پاکستان میں ہر سال سوا چار لاکھ افراد ٹی بی میں مبتلا ہو جاتے ہیں، عالمی ادارہ صحت

تپ دق کا مرض ایک سے دوسرے شخص کو با آسانی منتقل ہو سکتا ہے۔ ہر سال سینکڑوں افراد اس کے باوجود موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں کہ اب یہ مرض قابل علاج ہے۔

پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ پر عالمی ادارہ صحت کی تشویش

انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ لاہور اور کراچی کے سیوریج کے پانی کے متعدد  نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں پولیو وائرس کا پھیلاؤ اونچی سطح پر ہے۔

پولیو کے مزید دو نئے کیس رپورٹ، رواں سال تعداد 19 ہو گئی

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو نئے کیس سامنے آنے سے یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ ماحول میں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے جو ہر بچے کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

‘گوگل’ کا ‘ہواوے’ کے ساتھ کاروبار بند کرنے کا اعلان

‘گوگل’ کے اس انتباہ کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ مستقبل میں ‘ہواوے’ کے صارفین جی میل، یوٹیوب اور کروم جیسی ایپلی کیشنز تک رسائی سے محروم ہو سکتے ہیں۔

اپنے کچرے سے خود نمٹیں، ہمارے ملک میں نہ بھیجیں!

آجکل ہم بلا سوچے سمجھے انتہائی بے دردی سے نہ صرف پلاسٹک کا استعمال کرتے ہیں بلکہ اسے کوڑے کا حصہ بناتے ہوئے ایک لمحے کو بھی نہیں سوچتے کہ یہ پلاسٹک کس کس انداز میں ہماری صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ متمول ممالک پلاسٹک کا لاکھوں ٹن کچرہ جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کو برآمد کر رہے ہیں جہاں اسے ری سائیکل کرنے یا دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے نظام پر انتہائی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر آلودگی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ماحولیاتی تنظیم ’گرین پیس‘ کا کہنا ہے کہ اگر چہ متمول ممالک اپنے ترقی یافتہ ’ری سائیکلنگ کولیکشن سسٹم‘ کے بارے میں شیخی بگھارتے ہیں لیکن پلاسٹک اکثر برآمد کر دیا جاتا ہے اور بالآخر اسے جلا دیا جاتا ہے۔ اس سے سمندر سے حاصل شدہ زمین کو بھرا جاتا ہے یا پھر اس سے زمین اور سمندروں کی آلودگی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ کوالا لمپور کے مضافات میں پام کے تیل کے لئے کاشت کئے جانے والے پودوں کے درمیان پلاسٹک کے کچرے کے جیسے پہاڑ کھڑے ہیں جن کی ذمہ داری کوئی بھی نہیں لے رہا۔ اس میں زیادہ مقدار یورپ اور شمالی امریکہ کی دولتمند معیشتوں سے آئی ہے۔ ماحولیاتی ماہر پوالے پینگ کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ مقامی افراد کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مقامی ماحولیاتی ماہر پوالے پینگ کہ رہی ہیں کہ انہوں نے دوبارہ استعمال کے قابل نہ بنائے جانے والے پلاسٹک کو یہاں رکھ دیا ہے اور بعد میں وہ اسے کارخانے کے پچھلے صحن میں جلا دیں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس سے اٹھنے والے زہریلے دھوئیں سے مقامی لوگوں کے لئے بے پناہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ چین نے گزشتہ برس پلاسٹک کے کچرے کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی جس کے نتیجے میں ایک بڑی بین الاقوامی صنعت کے لئے ایک بحرانی صورت پیدا ہو گئی۔ سکائپ کے ذریعے بات کرتے ہوئے ’گرین پیس مشرقی ایشیا‘ کی سینئر تحقیق کار کیٹ لن کا کہنا ہے کہ دولتمند ممالک پلاسٹک کے کچرے سے پیدا ہونے والے مسائل کو سمندر پار منتقل کر رہے ہیں۔ گرین پیس کی کیٹ لن کہتی ہیں کہ ان متمول ملکوں کے پاس کچرے کو اکٹھا کرنے کے لئے بہت اچھے انتظامات ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنا آدھا کچرہ دوسرے ملکوں کو بھیجتے ہیں۔ چین کی طرف سے پابندی لاگو کرنے سے پہلے وہ اسے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لئے چین بھیجتے رہے ہیں لیکن انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات نہیں کئے۔ اب چین کی طرف سے پابندی عائد ہونے کے بعد وہ اپنے اس کچرے کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لئے نئی جگہوں اور مقامات کو بھیجنے کی کوشش کریں گے۔ گرین پیس رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس کچرے کا نصف سے زائد تقریباً 30 لاکھ ٹن سالانہ جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ ان ملکوں میں ملیشیا، ویت نام اور تھائی لینڈ شامل ہیں  گرین پیس کی کیٹ لن بتاتی ہیں کہ ان ملکوں کے پاس اتنی بڑی مقدار میں کچرے کو قابل استعمال بنانے کے مناسب ذرائع موجود نہیں اور یوں اس عمل سے گزرتے ہوئے مقامی ماحول میں آلودگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس پس منظر کے ساتھ جنوبی ایشیا کے متعدد ممالک پلاسٹک کی درآمد پر خود سے پابندی لگا رہے ہیں جس کے نتیجے میں اس کچرے کو انڈونیشیا اور بھارت لے جایا جاتا ہے جہاں منڈیوں پر زیادہ پابندیاں نہیں ہیں ۔ جینیوا میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ایک سو اسی  (180) ملکوں نے ایک تجویز پر تبادلہ خیال کیا کہ پلاسٹک برآمد کرنے والے ملکوں کو ان ملکوں سے پیشگی اجازت لینا چاہئے جن کو وہ یہ کچرا بھیج رہے ہیں۔ اس نظام کو ’پیشگی رضا مندی‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔   پوالے پینگ کا کہنا ہے کہ جو ملک اس آلودگی کے اثرات سے نمٹ رہے ہیں ان کے لئے یہ تبدیلی جلد نہیں ہوئی۔   مقامی رہائشی اور ماحول پسند پوالے پینگ کا کہنا ہے کہ ہم انتہائی بڑی مقدار میں کچرا استعمال کرتے ہوئے خود کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ہم پلاسٹک پر بہت انحصار کرتے ہیں۔ براہ کرم آپ اپنے کچرے سے خود نمٹیں۔ اسے ہمارے ملک میں نہ بھیجیں۔   گرین پیس کا کہنا ہے کہ اس کا حتمی حل ری سائیکلنگ یعنی کچرے کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے عمل کو بہتر بنانا نہیں بلکہ دنیا بھر میں پلاسٹک کی پیداوار اور استعمال میں انتہائی کمی کرنا ہے۔ 

جام اور جیلی میں کیا فرق ہے؟

ٹوسٹ، پراٹھے یا روٹی پر لگائے جانے والے جام اور جیلی میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جیلی کسی پھل کے رس سے بنتی ہے جب کہ جام پھلوں کے گودے سے۔

انسان نے دس لاکھ سے زیادہ جاندار اقسام کی بقا خطرے میں ڈال دی

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے حیاتیات کے تنوع میں جس تیزی سے کمی ہو رہی ہے اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ دس لاکھ سے زیادہ اقسام کی نباتات، اور حیوانات کو صفحہ ہستی سے مٹنے کا خطرہ لاحق ہے۔

لاڑکانہ میں ایڈز کے پھیلاؤ کا سبب عطائی ڈاکٹر یا کچھ اور

حکام کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ میں ایڈز کی مہلک اور خطرناک بیماری کا شکار ہونے والے بچوں کی عمریں 3 ماہ سے 12 سال کے درمیان ہیں۔