آسام: اسکول کے ٹفن میں بیف لانے کے معاملے نے پکڑا زور، طالب علم کی ماں گرفتار

گوہاٹی:آسام کے ضلع گوالپارا میں ایک سرکاری اسکول میں پیش آئے بیف (گائے کے گوشت) سے متعلق تنازع نے ریاست بھر میں بحث چھیڑ دی ہے۔ پولیس نے ایک طالب علم اور اس کی والدہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے والدہ کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ طالب علم کو بھی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق کرشنائی علاقے کے ہبراغاٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں نویں جماعت کے چند طلبہ اپنے ساتھ ٹفن میں بیف لے کر آئے تھے۔ الزام ہے کہ ان میں سے ایک طالب علم نے دو ہندو ہم جماعتوں کو بھی وہ گوشت کھانے کے لیے آمادہ کرنے یا دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ متاثرہ طلبہ نے اس معاملے کی شکایت اساتذہ اور بعد ازاں اپنے اہلِ خانہ سے کی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگوں اور مختلف تنظیموں نے احتجاج کیا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے اسکول پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔

پولیس کے مطابق شکایت کی بنیاد پر متعلقہ طلبہ اور ان کے سرپرستوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ تحقیقات کے دوران جس طالب علم پر بیف اسکول لانے کا الزام ہے، اس کی والدہ نور شاہدہ بیگم کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا، جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کے اسکول ٹفن کے حوالے سے احتیاط برتیں تاکہ مستقبل میں ایسے حساس تنازعات سے بچا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading