بی جے پی کو ہرایا جاسکتا ہے ۔’ ہندوتوا‘ کے سہارے بہت زیادہ دنوں تک بی جے پی اقتدار پر قبضہ نہیں جماسکتی ۔مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلیوں اور ضمنی انتخابات کے نتائج اپنے اندر کئی سبق لئے ہوئے ہیں ۔ سبق بی جے پی اور شیوسینا این ڈی اے کے لئے ہی نہیں سبق کانگریس ، این سی پی اور یوپی اے کے لئے بھی ہے ۔ اور ونچت بہوجن اگھاڑی ، ایم آئی ایم ، سماج وادی پارٹی اور بہوجن پارٹی کے لئے بھی ہے ۔ اور رائے دہندگان کے لئے بھی ۔بی جے پی نے جس طرح 2014ء کی ’تاریخی جیت‘ کے بعد جیت پر جیت حاصل کی ۔۔۔ چندریاستوں کی ہار کو چھوڑ کر ۔۔۔ اس سے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ ، بی جے پی کے سابق صدر امیت شاہ یہ مان بیٹھے تھے کہ اب بی جے پی کی ہار ممکن نہیں ہے۔ انہیں یہ بھی یقین تھا کہ ملک میں چاہے معاشی مندی آئے ، چاہے نوٹ بندی اور جے ایس ٹی کے عذاب سے لوگوں کی جانیں چلی جائیں ، چاہے بینکوں کے گھوٹالوں سے عوام کا برا حال ہوجائے ، چاہے بے روزگاری اور مہنگائی آسمان چھونے لگے ، چاہے ملک کے نوجوانوں کی بھاری اکثریت کو ملازمت نہ ملے ، چاہے بڑےبڑے دھنّا سیٹھ اور صنعت کار اور ہیرے تاجر بڑے بڑے گھپلے اور گھوٹالے کرکے ملک چھوڑ کر فرار ہوجائیں اور چاہے عوام پر کیسی ہی سخت سے سخت معاشی پابندیاں کیوں نہ عائد کردی جائیں ’ ہندوتوا‘ کا ’جادو‘ انہیں اقتدار دلاہی دے گا ۔۔۔ اقتدار کے حصول کے لئے انہوں نے کچھ نئے حربے بھی گڑھ لئے ، کشمیر سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ اور این آرسی کے نام پر مسلمانوں کو ’گھس پیٹھئے‘ قرار دینا اور یہ اعلان کرتے پھرنا کہ اس ملک میںمسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔
ہند پاک سرحدوں پر کشیدگی کو ختم نہ ہونے دینا اور مسلسل دہشت گردانہ حملوں سے ہوشیار کراتے اور’ریڈ الرٹ‘ جاری کرتے رہنا ۔ ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلیوں کی انتخابی مہمات میں یہ سارے حربے بھی آزمائے گئے ۔ دوحربے اور تھے ۔ ایک تھا اپوزیشن کو کمزور کرنا ۔ الیکشن سے پہلے کانگریس اور این سی پی کے لیڈر اپنی پارٹی چھوڑ کر بڑی تعداد میں بی جے پی کے ’ خیمے‘ میں داخل ہوگئے تھے ۔ این سی پی کے قائد ، مہاراشٹر کے مردآہن شردپوار نے دوٹوک لفظوں میں کہا ہے کہ لوگوں کو ’ ای ڈی‘ اور ’ محکمہ انکم ٹیکس‘ کا خوف دلاکر بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے دباؤ ڈالا گیا ہے ۔۔۔ یہ ساری حرکت اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لئے ہی تھی۔ ایک حربہ اور تھا ، مسلمانوں کو ٹکٹ نہ دینے کا حربہ ۔ ویسے اس کی شروعات تو پہلے ہی ہوچکی تھی ، لیکن اس پر ہر الیکشن میں زور دیا جاتا رہا ، اس بار بھی زور دیا گیا ، مقصد برادرانِ وطن کے ذہنوں کو مسموم کرنا تھا ، انہیں یہ سوچنے پر مجبور کرنا تھا کہ ’ چونکہ مسلمان ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں اس لئے ہم نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا ہے ۔ ‘ بی جے پی کو امید تھی کہ فرقہ پرستی اور ہندوتوا کے سہارے وہ ہرالیکشن جیتتی آئی ہے اور اس بار بھی وہ مہاراشٹر ، ہریانہ میں اور ضمنی انتخابات میں فرقہ پرستی اور ہندوتوا کے سہارے الیکشن جیت لے گی ، امیت شاہ نے ہریانہ میں ’مشن 75‘ کا اور مہاراشٹر میں ’ مشن 220‘ کا اعلان کربھی دیا تھا، لیکن ہوا یہ کہ دونوں ہی جگہ کے جب نتائج سامنے آئے تو سارے سپنے ٹوٹ کر بکھر گئے ۔ ہریانہ میں بی جے پی 40سیٹیں جیت کر ’ مشن 75‘ سے بہت دور رہی۔ مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیوسینا نے مل جل کر 161 سیٹیں حاصل کیں ، یعنی ’مشن 220‘ سے 59 سیٹیں کم ۔۔۔
یہ نتائج بہت واضح طور پر بتاتے ہیں کہ بی جے پی کو ہرایا جاسکتا ہے اور اس کے ’ ہندوتوا‘ کے پرچار کو ملک اور عوام کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرکے شکست دی جاسکتی ہے ۔ مہاراشٹر میں قیاس یہی کیا جاتا تھا کہ بی جے پی کو پہلے کے مقابلے زیادہ سیٹیں ملیں گی اور شیوسیناکے ’وجود‘ کے لالے پڑجائیں گے ۔ ایسا قیاس ایک تو اس لئے تھا کہ اپوزیشن کمزور تھی ، این سی پی کے کئی بڑے لیڈر بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اور کانگریس اندرونی خلفشار کا شکار تھی۔ لیکن شردپوار نے جس طرح سے این سی پی کی کمان سنبھالی وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے ۔ جب انہیں ’ ای ڈی‘ کے بہانے ڈرانے کی کوشش کی گئی تو وہ میدان میں نکل آئے ، اور میدان میں شردپوار کا اترنا بی جے پی کے لئے بے حد نقصان دہ ثابت ہوا ۔۔۔ اگر دیکھا جائے تو انہوں نے پوری اپوزیشن کو ایک لڑی میں پرودیا تھا ،اگر کانگریس قدرے مضبوط ہوتی یا اگر کانگریس نے اپنی کمان بھی مکمل طور پر شردپوار کے ہاتھ میں سونپ دی ہوتی تو شاید بی جے پی کا حال مزید برا ہوتا ۔
تین پارٹیوں کا ذکر بے حد ضروری ہے جنہوں نے شیوسینا ، بی جے پی ، کانگریس ، این سی پی کی ہار یا جیت میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے ۔ ڈاکٹر پرکاش امبیڈکر کی سیاسی پارٹی ’ ونچت بہوجن اگھاڑی ‘ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی ’ مجلس اتحادالمسلمین‘ ( ایم آئی ایم) اور راج ٹھاکرے کی ’ مہاراشٹر نونرمان سینا ‘ (منسے) ۔ اس بار ونچت اور ایم آئی ایم کا اتحاد نہیں تھا ، اس کے نتیجے میں جو ووٹ اتحاد کو ملتے وہ تقسیم ہوگئے ۔ تقسیم کا سیدھا مطلب یہ کہ یہ سارے کے سارے ووٹ دو الگ الگ امیدواروں کو ملے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ ووٹ ونچت اور ایم آئی ایم کے امیدواروں کے علاوہ دوسرے امیدواروں کو بھی ملے ہوں۔ لیکن یہ ووٹ کئی جگہ تقسیم ہوئے اس میں کوئی دورائے نہیں ہے ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاست کی تین مزید سیٹیں جہاں ایم آئی ایم کے امیدوار جیت سکتے تھے ، وہاں وہ ہارگئے۔ اورنگ آباد سینٹرل سے ناصر صدیقی دوسرے نمبر پر رہے ، اورنگ آباد سے عبدالغفار دوسرے نمبر پر رہے اور شولا پور شہر سے فاروق مقبول دوسرے نمبر پر رہے ۔ اگر یہ تین مسلمان جیت جاتے تو ایم آئی ایم کے ممبران اسمبلی کی تعداد پانچ ہوجاتی ۔ مالیگاؤں سے مفتی محمد اسمعیل نے فتح حاصل کی ہے اور دھولیہ سے شاہ فاروق نے ۔ پربھنی سے ونچت کے امیدوار محمد غوث معمولی ووٹوں سے ہارے ، وہ دوسرے نمبر پر رہے ۔ نیوز پورٹل ’ دی کوئنٹ‘ نے جو اعدادوشمار پیش کئے ہیں ان کے مطابق ونچت بہوجن اگھاڑی نے 25 سیٹوں پر کانگریس اور این سی پی کے امیدواروں کی شکست میں اہم ترین کردار ادا کیا ۔ ان تمام 25سیٹوں پر کانگریس اور این سی پی کے امیدوار دوسرے نمبر پر رہے ، مثلاً چاندیولی (ممبئی) کی سیٹ جہاں سے کانگریس کے سینئر لیڈر عارف نسیم خان بس چند سوووٹوں سے ہار گئے ، ان کی ہار میں ونچت بہوجن اگھاڑی اور ایم آئی ایم دونوں کا کردار رہا ۔ 25 سیٹوں پر کانگریس ، این سی پی امیدواروں کی ہار اور بی جے پی ، شیوسینا کے امیدواروں کی جیت کا فرق ونچت کے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹو ںسے کم تھا ! اگر ونچت نے یہ ووٹ حاصل نہ کئے ہوتے تو بی جے پی ، شیوسینا کی 25 سیٹیں کم ہوجاتیں ، یعنی 161 کی جگہ اسے 135 سیٹیں ہی حاصل ہوپاتیں اور کانگریس ، این سی پی کے کھاتے میں مزید 25 سیٹیں چلی جاتیں یعنی اسے 102 کی جگہ 127 سیٹیں ملتیں ۔ ونچت نے 235 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے اور 226 سیٹوں پر وہ تیسرے نمبر پر یا اس سے بھی نیچے رہی!
ایم آئی ایم کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ممبئی میں اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے ، لیکن ممبئی سے باہر مالیگاؤں ، اورنگ آباد اور ناندیڑ وغیرہ میں اس کے قدم مضبوط ہوئے ہیں۔ممبئی کی بائیکلہ سیٹ سے وارث پٹھان شیوسینا کی یامنی جادھو کے مقابلے بری طرح سے ہارے ، ممبادیوی میں کانگریس کے امین پٹیل کے مقابلے سینئر سیاستداں بشیر موسیٰ پٹیل ٹک نہیں سکے لیکن مالیگاؤں اور دھولیہ میں اس نے دوسیٹیں مفتی محمد اسمعیل اور شاہ فاروق انور کی شکل میں حاصل کیں ، اس کے ووٹ شیئر میں اضافہ ہوا ، 2014 میں یہ 0.9 تھا اب یہ 1.4 ہوگیا ہے ۔اسے اورنگ آباد ایسٹ میں 41 فیصد ، اورنگ آباد سینٹرل میں 35 فیصد ، ناندیڑ ساؤتھ میں 20 فیصد ووٹ ملے ۔ ناندیڑ نارتھ ، بائیکلہ اور شولا پور سینٹرل میں بھی اسے 20 فیصد ووٹ پڑے ۔ دھاراوی اور کرلا میں اس کے ہندو امیدواروں نے اچھی کارکردگی دکھائی ، انہیں 10 سے 15 فیصد ووٹ ملے ۔ ۔۔ یعنی ایم آئی ایم نے اپنے قدم جمائے ہیں ، لیکن قدم جمانے میں اس نے کانگریس اور این سی پی کا بڑا نقصان کیا ہے ۔ اور اس کا فائدہ بی جے پی ، شیوسینا کو پہنچا ہے ۔۔۔ مسلمان امیدوار بھی نقصان میں رہے ہیں ۔ تقریباً 12سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان امیدوار دوسرے نمبر پر رہے ہیں ، ان کی ہار معمولی ووٹوں سے ہوئی ہے ، یہ معمولی ووٹ یا تو ایم آئی ایم کے کھاتے میں گئے ہیں یا ونچت کے یا پھر آزاد امیدواروں کی جھولی میں گرے ہیں ۔ اندازہ کریں کہ اس بار دس مسلمان اسمبلی میں پہنچے ہیں ، پہلے کے 9 کے مقابلے ایک زیادہ لیکن اگر دوسرے نمبر پر رہنے والے مسلمان معمولی ووٹوں سے نہ ہارتے تو مہاراشٹر اسمبلی میں مسلم اراکین کی تعداد 22 ہوتی ، اور 22 امیدوار کسی بھی حکومت پر دباؤ بنانے کے لئے کافی ہیں۔۔۔ ایک افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر ونچت اور ایم آئی ایم نے مل کر الیکشن لڑا ہوتا تو کئی سیٹوں پر کامیابی ملی ہوتی ۔ نتائج میں اویسی اور پرکاش امبیڈکر دونوں کے لئے سبق ہے کہ ’ اتحاد‘ میں بڑی طاقت ہے ۔ پرکاش امبیڈکر کو اتنی بڑی تعداد میں سیٹوں پر لڑنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ یہ سیدھے سیدھے شیوسینا اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانا تھا۔ اویسی نے 44 سیٹوں پر الیکشن لڑا ، لیکن صرف دوپر کامیابی حاصل کی ۔ دونوں کو چاہیئے کہ وہ ’ متحد‘ ہوں اور اپنی سیٹیں پہچانیں ، ان پر ہی محنت کریں ، اس طرح جہاں انہیں طاقت ملے گی وہیں بی جے پی اور شیوسینا اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی ۔۔۔
ونچت اور ایم آئی ایم نے جس طرح کانگریس اور این سی پی کو نقصان پہنچایا اس سے ان دونوں قومی پارٹیوں کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ پچھڑوں اور اقلیتوں کو آپ نظر انداز کرکے نہیں چل سکتے ۔ اگر بی جے پی اور شیوسینا کو ہرانا ہے تو پچھڑوں اور اقلیتوں کو ساتھ لینا ہوگا ، پرکاش امبیڈکر اور اویسی سے بات کرنا ہی ہوگی ۔ ورنہ جو نتائج آئے ، ویسے ہی نتائج آئندہ بھی آتے رہیں گے ۔۔۔ اب راج ٹھاکرے کا ذکر کرتے ہیں۔ ان ی پارٹی ’ منسے‘ اپنے چچا زاد بھائی ادھوٹھاکرے کی شیوسینا کی بھی اور بی جے پی کی بھی سخت حریف ہے ۔ ’ منسے‘ کے امیدوار کھڑے توہوئے تھے ، ان دونوں سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرنے کے لئے اور کم از کم 5 سیٹوں پر انہیں کمزور بھی کیا لیکن اتنی ہی سیٹوں پر اس نے کانگریس ، این سی پی گٹھ جوڑ کے ووٹ بھی کاٹ لئے ۔۔۔۔ کانگریس ، این سی پی کو چاہئے کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کا اعتماد اور بھروسہ حاصل کرے ، انہیں اپنے ساتھ ملائے ، اتحاد کرے ، اسی میں بھلائی ہے ۔ اگر ’ اتحاد ہوتا یا یہ سب پارٹیاں ایک دوسرے کا خیال رکھ کر امیدوار کھڑے کرتیں تو آج مہاراشٹر پر ’بھگوا‘ نہ لہرارہا ہوتا ۔