ممبئی ، 9 فروری (ایجنسی)ریاستی حکومت نے یکم اپریل سے ریڈی ریکنر ریٹ میں 10 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد گھروں، پلاٹوں اور دیگر جائیدادوں کی خریداری مہنگی ہو جائے گی۔ ریڈی ریکنر ریٹ وہ قیمت ہوتی ہے جس پر کسی جائیداد کی سرکاری قدر کا تعین کیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر اسٹامپ ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے۔ اگر کوئی مکان، زمین یا دوسری جائیداد حکومت کی مقرر کردہ قیمت سے کم میں بھی خریدی جاتی ہے، تب بھی رجسٹریشن فیس سرکاری شرح کے مطابق ہی ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، بصورت دیگر رجسٹریشن ممکن نہیں ہوتا۔
ریڈی ریکنر ریٹ میں اضافے کے بعد پراپرٹی کی خریداری پر اسٹامپ ڈیوٹی کے اخراجات بھی بڑھ جائیں گے، جس کے باعث گھر خریدنے کا خواب مزید مہنگا ہو جائے گا۔ فی الحال، دیہی علاقوں میں جائیداد کی رجسٹریشن فیس 5 فیصد اور شہری علاقوں میں 6 فیصد ہے، لیکن یکم اپریل کے بعد اس میں تقریباً 10 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس فیصلے کے پیش نظر اگر کوئی شخص اپریل سے پہلے پراپرٹی کی خریداری مکمل کر لیتا ہے تو اسے پرانی شرح پر رجسٹریشن کا فائدہ ملے گا، تاہم اپریل کے بعد قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نئی اور زیادہ مہنگی شرح لاگو ہوگی۔
ریاستی حکومت کے اس اقدام سے جائیداد خریدنے والوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث ممکنہ خریداروں کو جلد فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اضافی مالی بوجھ سے بچا جا سکے۔