یوگی راج میں صحافیوں پر بربریت جاری ہے۔ تازہ معاملہ مرزا پور کے صحافی کا ہے جسے یوگی راج میں سچ دکھانے کی سزا ملی ہے۔ دراصل مرزا پور ضلع میں اسکولی بچوں کو مڈ ڈے میل میں صرف نمک روٹی دئیے جانےکے معاملے کو سامنے لانے والے صحافی پر کیس درج کیا گیا ہے۔

خبروں کے مطابق پولس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 186، 193، 120بی، 420 کے تحت مقامی صحافی پون جیسوال اور گاؤں کے راج کمار پال پر سازش کرنے، غلط ثبوت بنا کر ویڈیو وائرل کرنے اور شبیہ خراب کرنے کو لے کر معاملہ درج کیا ہے۔

22 اگست کو پرائمری اسکول سیور کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح طلبا مڈ ڈے میل میں صرف روٹی اور نمک کھا رہے ہیں۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یوگی حکومت کی کافی بدنامی ہوئی تھی۔ اس کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے رسوئیا مڈ ڈے میل کے ٹیچر انچارج اور این پی آر سی کے ٹیچر کو بھی معطل کر دیا گیا۔
اس معاملے پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’مرزا پور کے ایک سرکاری اسکول کے بچوں کو کھانے میں نمک اور روٹی دیا جا رہا ہے۔ یہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کی بدانتظامی کا اصل حال ہے۔ جس وجہ سے ریاست میں سرکاری سہولیات کی یہ بربادی ہوئی ہے۔ بچوں کے ساتھ ہوا یہ سلوک قابل مذمت ہے۔‘‘
#Mirzapur के एक स्कूल में बच्चों को मिड-डे-मील में नमक रोटी दी जा रही है।
ये उत्तर प्रदेश भाजपा सरकार की व्यवस्था का असल हाल है।
जहाँ सरकारी सुविधाओं की दिन-ब-दिन दुर्गति की जा रही है। बच्चों के साथ हुआ ये व्यवहार बेहद निंदनीय है। pic.twitter.com/FMD5cYE5Jn— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) August 23, 2019
واضح رہے کہ جمال پور کے گرام سبھا ہنوتا کے سیور پرائمری اسکول میں 22 اگست 2019 کو بچوں کو مڈ ڈے میل میں اسکول کے ملازمین نے روٹی اور نمک کھانے کے لیے دیا۔ اس اسکول میں 100 سے زیادہ بچے ہیں۔ اس معاملے کو لے کر خوب ہنگامہ ہوا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
