ارے بابا، یہ مہاراشٹر میں کیا چل رہا ہے؟ ایک طرف گائے ماتا کی بھکتی، اور دوسری طرف گورکشکوں کا "بھتہ خوری دھندہ”! اور اب قریشی برادری نے ایسا زوردار وار کیا ہے کہ ان نام نہاد گورکشکوں کے ہوش ہی اڑ گئے! آؤ، تھوڑا سا ہنسیں اور دیکھیں کہ اس پورے ناٹک میں ہو کیا رہا ہے…
کچھ گورکشک حضرات نے گائے کے نام پر ایک "کاروبار” خوب چمکا رکھا تھا۔ گائے ماتا ہے، اس کا تحفظ کرنا ہے – بات تو ٹھیک ہے نا؟ لیکن یہ لوگ گائے سے زیادہ اپنی جیب پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ جانوروں کے تاجر، ان کی ٹرانسپورٹ کرنے والے اور قریشی برادری کے گوشت کے کاروباری افراد ان کا ہدف ہوتے۔ سڑک پر گاڑی روکو، چیخو، "گائے کی اسمگلنگ ہو رہی ہے کیا؟” اور پھر؟ پھر آتا جادویی لفظ – "سیٹلمنٹ”!”دے دس ہزار، ورنہ گائے کے نام پر جیل میں ڈال دوں گا!”
یعنی کھلے عام بھتہ خوری۔ کئی مقامات پر ان کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے، لیکن ان کا دھندہ تھمنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ گائے ماتا کے نام پر یہ بابا لوگ اپنا بینک بیلنس بڑھا رہے تھے، اور بیچاری گائے؟ وہ تو سڑکوں پر پلاسٹک کھاتی پھر رہی تھی!
لیکن اب قریشی برادری نے کہا، "بس، بہت ہو گیا!”
8 جولائی 2025 کو ناگپور کے کامٹھی میں ایک بڑی میٹنگ میں انہوں نے فیصلہ کیا:
"اب ہم نہ جانور خریدیں گے، نہ ذبح کریں گے، اور نہ گوشت کا کاروبار کریں گے!”
ارے یہ تو ان گورکشکوں کے پیٹ پر سیدھا لات مارنے جیسا تھا! کیونکہ اگر قریشی برادری جانوروں کی منڈی سے پیچھے ہٹ گئی، تو ان گورکشکوں کا "بھتہ دھندہ” کیسے چلے گا؟
سڑک پر گاڑی ہی نہیں ہو گی، تو کس سے وصولی کریں گے؟اب یہ گورکشک بابا سڑکوں پر "گائے ماتا کی جے” کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں، لیکن جیب خالی ہے!کہتے ہیں نا، "جس کا کام اسی کو ساجھے، باقی سب کھڑے تماشا دیکھیں!”
اب ان گورکشکوں کا حال دیکھو۔ ایک بابا سڑک پر بیٹھا ہے اور کہتا ہے،
"ارے، اب قریشی لوگ دھندے سے ہٹ گئے، تو ہمکہاں جائیں؟”دوسرا کہتا ہے، "چلو، گایوں کو چارہ ہی ڈالیں!”مگر چارہ بھی تو خریدنا پڑتا ہے، اور جب بھتہ بند، تو پیسہ کہاں سے آئے؟
کچھ بابا اب نئے دھندے کا سوچ رہے ہیں۔ ایک بابا بولا،”چلو، اب کتوں کی رکھوالی کریں گے، ان کے نام پر بھی بھتہ مانگیں گے!”لیکن اگر کتوں کو پتا چلا، تو وہی بھونک بھونک کر بھگا دیں گے!
قریشی برادری نے واقعی گورکشکوں کا کھیل بگاڑ دیا ہے۔
انہوں نے کہا، "تم گائے کے نام پر ہمیں پریشان کرو گے؟ تو ہم تمہارا ہی دھندہ بند کر دیں گے!”
اب یہ فیصلہ مہاراشٹر بھر میں لاگو ہو چکا ہے۔
مویشی بازار سنسان، اور گورکشکوں کے چہرے لٹکے ہوئے۔قریشی برادری نے دراصل گورکشکوں کو آئینہ دکھایا ہے –”گائے کا تحفظ کرنا ہے تو کرو، مگر اس کے نام پر بھتہ خوری بند کرو!”
ورنہ ہم جیسے لوگ تمہارا دھندہ بند کر دیں گے، اور پھر تم صرف "گائے ماتا کی جے” کہتے سڑکوں پر گھومتے رہو گے، مگر جیب خالی رہے گی!
اب یہ گورکشک بابا کیا کریں گے؟
کچھ نے گائے کے نام پر "این جی او” کھولنے کا پلان بنایا ہے،لیکن اس میں بھی مقصد وہی – بھتہ وصولی!ایک بابا بولا، "اب آن لائن گورکشا شروع کرتے ہیں، ڈونیشن مانگیں گے!”لیکن بھول گئے کہ انٹرنیٹ پر لوگ انہیں ٹرول بھی کریں گے!قریشی برادری کے اس اقدام نے گورکشکوں کے "گورکھ دھندے” کو بند کروا دیا ہے،اور اب انہیں واقعی گائے کے تحفظ کے بارے میں سوچنا پڑے گا –یعنی گائے کو چارہ، پانی اور چھت دینا!
قریشی برادری نے واضح پیغام دیا ہے:
"ہم قانون کے دائرے میں کام کرتے ہیں،
لیکن تمہاری بھتہ خوری سے تنگ آ چکے ہیں!”
ڈاکٹر ریاض دیشمکھ، اے سی پی (ریٹائرڈ) اورنگ آباد