ناندیڑ قریش برادری کا اہم فیصلہ
✍️مفتی محمد احمد خان قاسمی
(امام وخطيب مسجد قریشہ بارہ امام منیار گلی ناندیڑ)
موجودہ حکومت مسلسل 2014 سے مسلمانوں پر ظلم وستم کرتے آرہی ہے اسی ظلم میں ایک قانون بیل کی گوشت پر پابندی کا ہے جو 2015 میں اس حکومت نے نافذ کیا اس سے جہاں قریش برادری کو نقصان ہوا مدارس کو بھی ہوا لیکن اس کے بعد بھی پولس اور ہندو پریشد کا ظلم بڑتا گیا کبھی جانور ظبط کئے جا تے کبھی قریش برادری کے افرادکو مارا جاتا اور ہندوستان میں بہت سے قریشی حضرات نے اس ظلم میں اپنی جان گنوائی ہے. اپنا پیسا گنوایا ہے.
لیکن سب سے پہلے دھولیہ مالیگاؤں اور اب ناندیڑ میں بھی اس تحریک کا آغاز ہوا ہے اور گوشت کاٹنے اور جانور کی خرید وفروخت کا مکمل بائیکاٹ کا ناندیڑ کی قریش برادری نےآج ضلع کے تمام لوگوں کے رائے مشورہ سے اعلان کیا ہےکہ بروزہفتہ 19 جولائی2025سےجانوروں کی خرید وفروخت اور گوشت کی فروخت بند رہے گی ۔اللہ ان کی اس تحریک کو کامیاب فرمائے کیوں کہ ہماراملک ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوری ملک میں اٹھے ہوئے ہاتھوں کی قیمت ہوتی ہے جھکے ہوئے ہاتھوں کی نہیں.
اور میں تمام ہی مسلمانان ناندیڑ سے گذارش کرتا ہوں وہ ہر معاملے میں قریش برادری کا ساتھ دے کیونکہ اللہ کی ایک حلال کردہ چیز کو حرام کیا گیا ہے اور گوشت جہاں کا ٹناقریش برادری کا کام ہے تو اس کا کھانا تمام مسلمان کا عمل ہے اس لئے ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس تحریک میں قریش برادری کا ساتھ دے اوراتحاد واتفاق کا ثبوت پیش کریں.