ہادیہ: جامعہ دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کے فارغین کی محرک وفعال جماعت جو کیرالا اور بیرون کیر الا میں امت مسلمہ کو ترقی یافتہ کرنے اور تعلیم دے کرلوگوں میں بیداری پیدا کرنے اور سماج کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے ہمہ تن کا م کررہی ہے۔ اس جماعت کا ایک مرکز ہے جو (CSE) CENTER FOR SOCIAL EXCELLENCE(سی ایس ای۔ مرکز برائے سماجی برتری کا انتظامی دفتر)۔ یہ مرکز (سی ایس ای) ترقی کی ایک نئی راہ کی طرف گامزن ہے۔ 20 ستمبر کو یہ اپنا نیا Office Administration قوم کی خدمت میں وقف کیا ہے۔ جس کا افتتاح آل رسول سید حیدر علی شھاب نے اپنے مبارک ہاتھوں سے کیا۔Main Office and Guest Launge کی افتتاح کیرلا کی بڑی جماعت (سمستہ) کے صدر سید جفری متو کویا صاحب نے اپنے دست مبارک نے کیا۔ اور دیگر چیز کی افتتاح جیسا کہ Digital Class Room علوی کٹی مسلیار، Seminar Hall عبداللہ مسلیار، Counselling Center سید عباس علی شھاب صاحب، Media Studioکنیالی کٹی(MP)، Open Gallery عبدالوہاب (MP)۔ دیگر کچھ کتابوں کی بھی رسم اجرا ہے۔
پروگرام کی شروعات تلاوت قرآن پاک سے ہوئی اور افتتاحی کلمات میں آل رسول سید حیدر علی شھا ب صاحب نے اس تنظیم کی سرگرمیوں کو دیکھ کر”بہت بدھائی دی اور لوگوں کو ترغیب دلائی کہ اس طرح کی تنظیم کی پوری طرح سے مدد کرے اور قوم کو آگے بڑھاے“۔اس پروگرا م میں خاص طور پر بڑے لیڈروں کو بلایا گیا جو کیرلا اور بیرون کیرلا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیسا کہ(آ ل انڈیا اہل السنۃ والجماعۃ سیکرٹری آ ف ویست بنگال) متین صاحب نے اپنے تأثرات میں فرمایا کہ:”ہادیہ جو کام کررہی ہے وہ شاید کہ کوئی اورکر سکے۔ ہم ۶ سال سے ان بنایا ہوا اپنا ایک خاص سیلیبس مکتب کے لیے جو ہم بنگال میں چلارہے ہیں۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ سیلبس پورے انڈیا میں چلا یا جائے“۔ اور آخر میں یہ پروگرام محفل مجلس النور اور دعا کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔

ملیالم زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس تنظیم نے وقت کی ضروریات کو سمجھا اور زمانہ سے شانہ بہ شانہ ہو کر چلی، اور ایک ایسے معاشرے کے وجود اور ترقی کا منصوبہ رکھتے ہیں جو مذہب کے ہدفِ اصلی کو بھی بر قرار رکھے۔ اِن خدمات کے لیے ہمیں ایسے رہنماؤوں اور اسکالرز کی ضرورت ہے جو مذہبی اور معاشرتی بیداری کے ساتھ ساتھ قوم سے محبت رکھتے ہوں۔ قوم کو تعلیمی، سماجی اور پیشہ ورانہ علاقوں مین نمائندگی کی یقین دہانی کرانی ہوگی اور ساری غلطیوں کو سادگی سے دور کر نے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اس کا صرف ایک ہی طریقہ کار ہے اور وہ یہ کہ لوگوں کو تعلیم دی جائے اورتاکہ ایک مثالی معاشرہ تشکیل پاجائے۔
