چائے کے نقصانات

چائے پانی کے بعد پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر پیا جانے والا مشروب ہے۔ چھوٹے، بڑے، مرد، عورتیں سب ہی بڑے شوق سے اسے استعمال کرتے ہیں اور یہ مشروب تقریبا ہر محفل میں پیش پیش رہتا ہے۔ میڈیا پہ بھی دن رات اسکی خوب مشہوری کی جاتی ہے اور اسکی افادیت کو لیکر مختلف طریقوں سے عوام کے دماغوں میں نقشہ بھی کھینچا جاتا ہے۔ یوں چائے کا پوری دنیا میں کروڑوں کا بزنس چل رہا ہے۔ مگر کیا آج تک کبھی ہم نے اس مشروب کے منفی اثرات پر غور کیا؟ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ یہ مشروب دیمک کی مانند اندر ہی اندر ہمارے جسم کا بیڑا غرق کررہا ہے؟ کیا کبھی کسی نے اس بات پہ غور کیا کہ چائے کاکاروبار کرنے والی کمپنیاں منافع خوری کرتے ہوئے کس طرح مضر صحت اجزاء چائے میں استعمال کرتی ہیں؟ یقینا بالکل بھی نہیں۔ کیونکہ میڈیا پر جو دکھایا جاتا ہے، لوگوں نے اندھوں کی طرح اسے ہی من وعن تسلیم کرنا ہے۔ حالانکہ چائے ایک نشہ ہے۔ حالیہ تحقیقی رپورٹس کی بنیاد پر اگر بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ چائے کے عادی افراد ہڈیوں اور پٹھوں کی کمزوری سے لیکر ذیابیطس اور سرطان جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہیں مگر انھیں اس بات کا بالکل ادراک نہیں۔ وہ اسے آب حیات سے کم درجہ نہیں دیتے۔
اگر اسکے نقصانات کو سامنے رکھا جائے تو مندرجہ ذیل چیدہ چیدہ پہلو ہمارے سامنے آئیں گے:

سب سے پہلے تو اسکے اجزاء ترکیبی پر بات کی جائے تو یہ دودھ، چینی اور چائے پر مشتمل ہوتی ہے۔ تینوں ہی اجزاء بذات خود صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ مثلا دودھ مارکیٹ میں ڈبہ بند ملتا ہے، جس میں مصنوعی طریقوں سے کیمیکلز شامل کیے جاتے ہیں اور اگر کھلے دودھ کی بات کی جائے تو وہ بھی ناخالص اور بیمار جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ چینی بھی مصنوعی طریقوں سے تیار کی جاتی ہے اور اسے سفید زہر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ذیابیطس اور باقی مہلک بیماریوں کا سبب ہے۔ چائے میں ڈلنے والی پتی بھی چائے کی پتیوں کو مصنوعی طریقوں سے کیمیکلز شامل کرکے تیارکیا جاتا ہے۔ مصنوعی رنگ ڈالا جاتا ہے اور اب تو مارکیٹ میں جعلی پتی بھی ملتی ہے، جو کہ برادے میں رنگ ڈال کربنائی جاتی ہے۔ یوں چائے میں استعمال ہونے والے تینوں اجزاء بذات خود ہی بیماریوں کا سبب ہیں۔ اور جب ان تینوں کو آگ پرپکایا جاتا ہے تو پھر سیدھا سیدھا ایک زہریلا سیرپ تیار ہو جاتا ہے۔

چائے چونکہ گرما گرم (50-70°C) استعمال کی جاتی ہے تو جب یہ گرمائش جسم کے اندرونی اعضاء میں سرایت کرتی ہے تو پٹھوں، ہڈیوں اور معدے کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔
کیفین Caffeine چائے میں پایا جانے والا ایک بنیادی عنصر ہے۔ یہ منشیات Drugs کی کیٹیگری میں آتی ہے۔ مختلف نشہ آور ادویات خصوصا دماغی یا نفسیاتی مریضوں کی ادویات میں شامل کی جاتی ہے، جسکی وجہ سے انھیں وقتی راحت ملتی ہے۔ یہی وجہ ھیکہ جب آپ تھکے ہوئے ہوں تو چائے پینے پر آپ Relax محسوس کرتے ہیں۔ اور عموما ایک Trend بھی بن گیا ھیکہ جب بھی بندہ تھکان یا سردرد محسوس کرے تو فورا چائے کی طرف لپکتا ہے۔ مگر دوسرا پہلو بھول جاتا ہے کہ وہ نشے کا عادی بنتا جارہا ہے۔ اور یہی وجہ ھیکہ لوگ پھر چائے کے عادی بن جاتے ہیں۔ جیسے ایک نشئی نشہ کرتے کرتے اسکاعادی بن جاتا ہے۔ اور نشہ نہ ملنے ہر اسکی کیفیت آپ سب جانتے ہیں۔ یہی حال کچھ چائے پینے والوں کا ہے۔

جو افراد مسلسل چائے کا استعمال کرتے ہیں تو انکا جسم کیفین کا عادی بن جاتا ہے۔ اور جب تک جسم کو کیفین نہ ملے تو بندہ تھکاوٹ اور الجھن کا شکار رہتا ہے۔ اور اسکو ختم کرنے کیلئے وہ کیفین کیساتھ ساتھ باقی زہریلے کیمیکلز بھی جسم میں انڈھیل دیتا ہے۔ چڑچڑا پن، سردرد، تھکاوٹ، ہڈیوں پٹھوں کی کمزوری، آنتوں کی سوجن، موڈ میں اتار چڑھاؤ، نیند میں گڑبڑی وغیرہ سب اسی کا کرشمہ ہیں….

(نوٹ: اسکے علاوہ کیفین کی وجہ سے متعدد اور بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں).

بہرحال ہم نے اختصار کیساتھ آپکے سامنے چند ایک چائے کے بنیادی نقصانات رکھے ہیں۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کی وجوہات میں سے ایک چائے بھی ہے۔ اکثریت اسکو استعمال کررہی ہے اور اسکے نقصانات سے بے خبر ہے۔ یاد رہے کہ ہمارا جسم ایک پیچیدہ مشین کی مانند ہے۔ اسے مختلف زمینی عناصر بشمول منشیات ضرورت ہوتے ہیں۔ چونکہ فطرت ہمیں وجود میں لائی تو فطرت کو ہی پتہ ہے کہ اسے کونسی چیز کتنی مقدار میں چاہیئے۔ لہذا تمام مصنوعی چیزوں کو اس جسم سے دور رکھیں اور اپنے اہل خانہ کو بھی فطرتی چیزوں کا عادی بنائیں…

یہ پوسٹ اپنے چاہنے والوں دوست احباب کیساتھ شیئر کریں.

سوشل میڈیا گروپس سے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading