پِی ڈی پی کا وفد محبوبہ سے آج نہیں ملے گا، نیشنل کانفرنس بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی

جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد دو مہینے سے نظر بند ریاست کے سیاسی رہنماؤں سے ان کی پارٹی کے ارکان کے ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کل نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کی ملاقات فاروق عبد اللہ اور ان کے بیٹے عمر عبد اللہ سے ہوئی اور آج پی ڈی پی کے رہنماؤں کی ملاقات سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے ہونی تھی لیکن خبر ہے کہ پی ڈی پی کے رہنما آج محبوبہ سے نہیں ملیں گے۔ واضح رہے انتظامیہ نے پی دی پی کے وفد کو محبوبہ سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے اور اس وفد کو آج یعنی پیر کو ملاقات کرنی تھی لیکن اتوار کی رات کو ملاقات کے اس پروگرام کو مؤخر کر دیا گیا اور نئی تاریخ کے بارے میں ابھی نہیں بتایا گیا ہے۔

جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک کی اجازت ملنے کے ایک دن بعد جموں میں این سی کے عارضی صدر دیویندر رانا کی قیادت میں 15 رکنی وفد نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ سے یہاں ملاقات کی۔ این سی وفد دونوں سابق وزرائے اعلی سے ملاقات کرنے کے سری نگر پہنچے تھے۔

نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں نے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ اس ملاقات کے بعد خوش ہیں کیونکہ دونوں رہنما ٹھیک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں موجودہ حالات سے دکھی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے رہنما دیویندر رانا نے کہا کہ ’’اگر ریاست میں سیاسی عمل شروع کرنا ہے تو ان رہنماؤں کو رہا کرنا ہو گا اور نیشنل کانفرنس بلدیاتی انتخابات میں جب ہی حصہ لے گی جب ان کےرہنماؤں کو رہا کیا جائے گا۔ ‘‘ نیشنل کانفرنس کے 15 رکنی وفد نے اجازت ملنے کے بعد فاروق عبد اللہ اور عمر عبداللہ سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں نے بتایا کہ دونوں رہنما پوری طرح صحت مند ہیں لیکن جو کچھ ریاست میں ہو رہا ہے اس سے کافی غمزدہ ہیں۔ اس ملاقات کے بعد وفد نے فاروق عبداللہ کے گھر کی بالکونی سے ہاتھ ہلا کر تصویریں بھی کھچوائیں۔ فاروق عبداللہ نے بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ بالکونی میں آکر تصویریں کھچوائیں۔

واضح رہے 5 اکست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد ریاست کے تمام سیاسی رہنما نظر بند ہیں اور 81 سالہ فاروق عبداللہ کو گھر ہی میں پبلک سیفٹی ایکٹ لگا کر نظر بند کر رکھا ہے جبکہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو گیسٹ ہاؤس میں حراست میں رکھا ہوا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading