-
پولس اور ایف ڈی اے افسران کی مدد سے جاری ہے گٹکے کا غیر قانونی کاروبار
-
اسمبلی اجلاس میں ایم آئی ایم رکن اسمبلی امتیاز جلیل کا حکومت پر الزام
اورنگ آباد:(جمیل شیخ): شہر میں جاری گٹکے کے غیر قانونی کاروبار کا مسئلہ آج اسمبلی ا جلاس کے دوران ایم آئی ایم رکن اسمبلی سید امتیاز جلیل نے اٹھاتے ہوئے۔ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا انہو ںنے سوال کیا کہ ریاست میں گٹکے کے کاروبار پر پابندی عائد ہے باوجود اس کے بازار میں کھلے عام گٹکا فروخت ہورہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا فوڈ اینڈ ڈرگس انتظامیہ میں بیٹھے افسران کی ملی بھگت کے سبب یہ کاروبار جاری ہے اور دن بدن اس کاروبار میں کو فروغ دیا جارہا ہے۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے امتیاز جلیل نے کہا کہ فوڈ اینڈ ڈرگس انتظامیہ اور پولس کے افسران گٹکے کا کاروبار کرنے والے بیوپاریوں سے ہفتہ وصول کررہے ہیں اور انہیں کاروبار کرنے کی آزادی دے رکھی ہے۔ امتیاز جلیل نے سوال کیا کہ اگر ایک ایم ایل اے گٹکے کے گوداموں کا پتہ کرسکتا ہے توپھر ایسی ایجنسیاں کب کام آئے گی جن کا کام اس طرح کے کاروبار پر نظر رکھنا ہے۔ امتیاز جلیل نے بحث کے دوران شہر میں موجود تاریخی دروازوں کے تحفظ کا مسئلہ بھی اٹھایا اور اس کے لئے ایک خصوصی پیکج دئے جانے کا مطالبہ بھی کیا انہو ںنے بتایا کہ ایک وقت تھا جب شہر کو ۲۵ دروازوں کے نام سے جانا جاتا تھا ان تمام دروازوں کے ساتھ ایک عظیم تاریخ وابستہ ہے انہوں نے کہا آپ دروازوں کو اکھاڑ سکتے ہیں انکے نام ونشان مٹانے کی کوششیں کی جاسکتی ہیں لیکن ان کے ساتھ تاریخ وابستہ ہے اسے ہرگز نہیں مٹایا جاسکتا ریاست میں جاری غیر قانونی ریت کاروبار کا معاملہ بھی امتیاز جلیل نے اٹھایا انہوں نے کہا کہ ریت کی رائلٹی سے متعلقہ تحصیلوں کے معرفت بڑی آمدنی ہوتی ہے لیکن جو رقم سرکاری خزانے میں جانا چاہئے وہ تحصیل اور پولس محکمہ کے افسران کی رشوت خوری اور بدعنوانی کے سبب ان کی جیبوں میں جارہی ہے۔
جس سے ہر سال حکومت کو بھاری مالی نقصان ہورہا ہے۔ انہو ںنے کہا ایم آئی ایم نے ہر سال زیارت حج پر جانے والے مسلمانوں کو دی جانے والی سات سو کروڑ کی سبسڈی روکنے کی مانگ کی اور اس کے بدلے اس پیسے کا استعمال اقلیتی طبقے کی لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا مطالبہ کیا انہوں نے سوال کیا کہ اسکیل ڈیولپمنٹ یونیورسٹی کی تجویز کا کیا ہوا اقلیتوں کی تعلیم میں حج سبسڈی سے بچنے والی رقم استعمال کیو ںنہیں کی گئی ۔