نئی دہلی: دہلی اقلیتی کمیشن نے منگل کو لودھی روڈ کے پاس سی جی او کمپلکس کے علاقے میں واقع لال مسجد اور اس سے ملحقہ قبروں پر قبضے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پی آر ایف کو اس کا کوئی حق نہیں ہے۔معاملہ عدالت عالیہ میں ہے اور اگر فیصلہ سی پی آر ایف کے حق میں بھی ہوجاتا ہے تو مسجد پر قبضہ کرنے اور ملحقہ مزارات کو مسمار کرنے کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔
دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے بدھ کی صبح کو لال مسجد کا دورہ کرکے حالات کو خود جانے کی کوشش کی اور وہاں موجود امام ومؤذن کو تسلی دی کہ کمیشن ان کے ساتھ ہے اور اگر کوئی بھی پریشانی ہو تو وہ کمیشن کو مطلع کریں۔صدر کمیشن نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ منگل کو قبضہ کرنے کی کوشش خود سی آرپی ایف کی کم ازکم تین یقین دہانیوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔ سی آر پی ایف نے کمیشن کے نوٹس کے جواب میں تین بار کمیشن کو لکھ کر کہا ہے کہ مسجد اور مزارات محفوظ ہیں اور ان کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔کمیشن نے ان جوابات اور اس سے منسلکہ کاغذات کی کاپی دہلی وقف بورڈ کو بھیج دی ہے جو اس مسئلے کو قانونی طور سے دیکھ رہا ہے۔ضرورت پڑنے پر کمیشن بورڈ کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہے۔