سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کے لئے مزید چارج شیٹ داخل کی گئی ہے
ممبئی۔19 جولائی (ورق تازہ نیوز )پربھنی سے آئی ایس آئی ایس سے تعلق کے الزام میں گرفتار ناصر یافعی و دیگرکے مقدمہ میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جس میں این آئی اے نے اس مردہ کیس کو زندہ رکھنے کی ناکام کوشش کی ہے اور سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کے لئے ایک نئی چارج شیٹ اور گواہیاںنامزد کردی ہیں جو انتہائی تشویشناک ہے چو نکہ یہ مقدمہ پہلے سے چند اہم قانونی نکات پر مشتمل پٹیشن سپریم کورٹ میں آخری سماعت کے لئے تیار ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قا نونی امداد فراہم کرنے والی تنظےم جمعیة علماءمہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔ واضح ہو کہ پربھنی سے داعش سے تعلق کے الزام میں گرفتار کئے گئے ناصر یافعی پر مہاراشٹر اے ٹی ایس نے یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا تھا،پہلے یہ معاملہ اے ٹی ایس کے پاس تھا جس میں بہت زیادہ دھا ندھلیا ں ہوئیں،جمعیة لیگل ٹےم کی کو ششوں سے یہ مقدمہ این آئی اے کو منتقل ہوا ، مقدمہ کی منتقلی کے بعد اے ٹی ایس نے چارج شیٹ پیش کیا جب کہ اسے اس بات کا اختیار ہی حاصل نہیں ہے ۔ یہ کیس جھوٹ اور غلطیوں کی وجہ سے دو نوں ہی تفتیشی ایجنسیاں اے ٹی ایس اور این آئی اے کے لئے گلے کی ہڈی بن چکا ہے ،کیس کی بنیادیں ہل گئیں ہیں ،کےس پوری طرح لڑ کھڑا گیا ہے صرف نام کے طور پر زندہ ہے ۔کیس کی نو عیت کودیکھتے ہوئے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ این آئی اے اے ٹی ایس کی تحقیقات سے متفق نہیں ہے اسے یہ لگتا ہے کہ یہ کیس کمزور ہے اس لئے اس نے مزید نئی چارج شیٹ دائر کر دیا ہے، جس میں ۳۲ گواہیاں اور نامزد کی گئی ہیں یہ ان کی بو کھلاہٹ جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔اس مقدمے کی پیروی جمعیة علماءمہاراشٹر کے سینئر کریمنل وکیل ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان کرہے ہیں۔ ان کے مطابق ابتداءسے ہی اس کیس کے ملز مین پر جس قانون کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں وہ سینٹرل گورنمنٹ کے بنائے ہوئے ہیں، ایسے میں اس مقدمے کے تعلق Cognizance لینے کا اختیار بھی انہیں عدالتوں کو ہے جو یو اے پی اے قانون کے تحت مرکزی یا ریاستی حکومت کے ذریعے خصوصی طور ایسے مقدمات کے لئے قائم کئے گئے ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے اس پورے معاملے میں ملزم کی گرفتاری کے بعد سے یو اے پی اے قانون کے تحت دی گئی واضح ہدایتوں کی خلاف ورزی کی گئی اور ملزم کو ریمانڈ سے لے کر فردِ جرم عائد کئے جانے تک اس کورٹ میں پیش کیا جاتا رہا جسے اس مقدمے کی Cognizance لینے کا ہی اختیار نہیں ہے۔جب یہ مقدمہ ناندیڑ کے سی جے ایم کی عدالت میں زیرسماعت تھا تو ہم نے فورا سے پیشتر کئی اہم قانونی نکات کو ریکارڈ پر لاکر ملز مین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ تمام کاروائیاں نہ صرف غیر اصولی بلکہ غیر قانونی بھی تھیں جو کہ اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔اس کے علاوہ اس کیس میں ملز موں کے خلاف کوئی ٹھوس گواہی یا شہادتیں موجود نہیں ہیں جو کہ ان پر عائد الزامات کو عدالت میں ثابت کر سکیں ۔این آئی اے کی جا نب سے بھلے ہی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے اور کئی سال بعد گواہوں میں اضافہ وغیرہ شامل ہے اس کا قا نونی جواب ہماری لیگل ٹےم عدالت کے رو برو رکھے گی موجودہ دور میں بھی ہمیں ہندوستان کی عدلیہ پر بھروسہ ہے۔ جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے کہا کہ جمعیة لےگل ٹےم اس کےس کے تمام پہلوو¿ں سے غور کرے گی اور اس کا موثر جواب دے گی ، یہ حقیقت ہے کہ اس مقدمہ میں جتنے بھی نو جوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، ان میں سے بیشتر کے مقدمات میں اے ٹی ایس کی جانب سے اس طرح کی دھاندھلی ہوئی ہے ، اور اس دھاندھلی کی بنیاد پر لوگ برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیںاگر ان تمام مقدمات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں اے ٹی ایس کی دھاندھلی بے نقاب ہو گی اور ملزمین کو انصاف ملے گا۔