چندی گڑھ: پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک ایک پاکستانی سکھ لڑکی کے مسلم لڑکے کے ساتھ نکاح پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے اس معاملہ میں کارروائی کی اپیل کی ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ننکانہ صاحب میں ایک سکھ لڑکی کا مبینہ طور پر اغوا کر کے اس کا جبری مذہب تبدیل کراکر اس کا نکاح کرایا گیا ہے ۔ انہوں نے واقعہ پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئےپاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے ۔
کیپٹن سنگھ نے جمعہ کو ٹویٹ کر کہا’’پاکستان کے ننکانہ صاحب میں ایک سکھ لڑکی کے اغوا اور اسلام میں تبدیلی مذہب پر مجبور کرنے کا حیرت انگیز واقعہ سامنے آیا ہے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کرتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا، ’’وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنكر سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنے ہم منصب پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ اس مسئلے کو جلد از جلد اٹھائیں۔ ‘‘
Shocking incident of a Sikh girl being kidnapped & forced to convert to Islam in Nankana Sahib, Pakistan. Call upon @ImranKhanPTI to take firm and immediate action against the perpetrators. Request @DrSJaishankar to strongly take up the issue with his counterpart at the earliest. pic.twitter.com/hpHvD9kkEJ
— Capt.Amarinder Singh (@capt_amarinder) August 30, 2019
واضح ر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سکھ قوم کے بانی گرو نانک دیو کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب (پاکستان ) سے سکھ لڑکی کے مسلم لڑکے کے ساتھ نکاح کی خبر گردش کر رہی ہے۔
Here is the video evidence of this incident. Please don't be part of this campaign against Islam and Pakistan. Nankana police is well aware of it's duties and right of it's peasants. pic.twitter.com/xyTCVfbHjN
— حسن سید (@HASSANSYED8) August 29, 2019
سکھ طبقہ کا الزام ہے کہ گرودوارہ تمبو صاحب میں ایک گرنتھی بھگوان سنگھ کی بیٹی کا نکاح مسلم لڑکے کے محمد حسان کے ساتھ کرایا گیا ہے۔ جبکہ لڑکی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ لڑکی کا مذہب جبراً تبدیل کر انے کے بعد اس کی شادی محمد حسان نام کے شخص سے کرائی گئی ہے۔ یہ واقعہ دو دن پرانا ہے جس پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے ٹویٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس میں متاثرہ کا بھائی اپنے اہل خانہ کے ساتھ پورے واقعہ کے بارے میں بتا رہا ہے۔
ادھر پاکستانی میڈیا کے مطابق ، سکھ لڑکی جگجیت سنگھ کور دختر بھگوان سنگھ نے مقامی مدرسے میں جا کر اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا جہاں انہیں کلمہ پڑھایا گیا۔ مسلمان ہونے کے بعد جگجیت کا اسلامی نام عائشہ رکھا گیا اور اس کا محمد حسان نامی نوجوان سے نکاح پڑھایا گیا۔اس موقع پر جگجیت کور نے حلفی بیان بھی دیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کر رہی ہیں اور حسان سے شادی کر رہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے گھر سے اپنی مرضی سے آئی ہوئی ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
