پاکستان میں فعال دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو لے کر بڑی خبر آ رہی ہے، سوشل میڈیا پر ایسا دعوی کیا جا رہا ہے کہ راولپنڈی شہر کے فوجی اسپتال میں ہوئے بم دھماکے میں مسعود اظہر سمیت 10 دہشت گرد شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں، گزشتہ اتوار کی شام فوجی اسپتال میں بم دھماکہ ہوا تھا۔ بیمار چل رہے دہشت گرد مسعود اظہر کا اس اسپتال میں کافی وقت سے علاج چل رہا ہے، حالانکہ اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔
’انڈیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق، کوئٹہ کے ایک انسانی حقوق کے کارکن احسان اللہ مياخیل نے الزام لگایا ہے کہ فوج نے میڈیا کو اس واقعہ کو تشہر کرنے سے روک دیا ہے، انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بلیک لسٹ کیے گئے دہشت گرد جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اسی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جہاں یہ دھماکہ ہوا ہے۔
Huge #blast at Military Hospital in #Rawalpindi, #Pakistan. 10 injured shifted to emergency.
Jaish-E-Mohammad Chief Maulana Masood Azahar is admitted here.Completely Media blackout by Army. Media asked Strictly not to cover this story@a_siab @nidkirm @GulBukhari @mazdaki pic.twitter.com/sTIYrJ7sAn— Ahsan Ullah MiaKhail (@AhsanUlMiakhail) June 23, 2019
اسپتال میں ہوئے بم دھماکے میں زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا خلاصہ نہیں ہو سکا ہے، لیکن غیر مصدقہ ذرائع سے یہ خبر آرہی ہے کہ اس دھماکے میں کم از کم 16 لوگوں کی حالت تشویسناک بنی ہوئی ہے جنہیں آئی سی یو میں داخل کرائے جانے کی بات کہی جا رہی ہے، خبروں کے مطابق مسعود اظہر کو بھی آئی سی یو میں داخل کیا گیا ہے، فی الحال دھماکے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔
یاد رہے کہ یکم مئی 2019 کو اقوامِ متحدہ نے پاکستانی شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
