ممبئی:آئندہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت سے متعلق غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ہفتہ کے روز ٹیم کی نئی کِٹ کی رونمائی کی تقریب منسوخ کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت پر شکوک و شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ سے قبل لاہور میں کِٹ کی رونمائی ہونا تھی، تاہم پی سی بی نے اس تقریب کو منسوخ کر دیا ہے اور اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نئی تاریخ کب مقرر کی جائے گی۔ ٹیلی کام ایشیا اسپورٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ تقریب گدا فی اسٹیڈیم میں ٹاس کے بعد ہونا تھی، مگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر اسے منسوخ کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق،”آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کی کِٹ کی رونمائی دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کے ٹاس کے بعد ہونی تھی، لیکن ناگزیر حالات کے باعث اسے منسوخ کر دیا گیا ہے۔”اس فیصلے کے بعد بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت پر شکوک میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، خاص طور پر بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کیے جانے کے خلاف احتجاج کے تناظر میں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹیم کو پیر کے روز کولمبو روانہ ہونا تھا اور اسی ایئر لائن کی پرواز میں آسٹریلیا کی ٹیم بھی سفر کرنے والی تھی، تاہم اس سفر کی بھی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی۔
اگر پاکستان ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوتا ہے تو اسے بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان پہلے ہی اپنے میچ سری لنکا میں نیوٹرل وینیوز پر کھیل رہا ہے، جہاں سیکیورٹی سے متعلق کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ کئی موجودہ اور سابق کرکٹرز نے ورلڈ کپ سے دستبرداری کی مخالفت کی ہے، تاہم پی سی بی چیئرمین محسن نقوی اپنے مؤقف پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اس معاملے پر ملک کے وزیر اعظم اور صدر سے بھی مشاورت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق،
"پاکستان کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ حکومت کی جانب سے وزارتِ خارجہ کے ذریعے پیر کے روز متوقع ہے۔”
گزشتہ ہفتے محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر کو کیا جائے گا۔