ایرانی شہربندرعباس میں دھماکےمتعدد ہلاکتیں،پاسداران انقلاب کی بحریہ کےکمانڈرکےموت کی تردید

بندرباس : ایرانی میڈیا نے آج ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ جنوبی ایران کے شہر بندر عباس میں شارع معلم پر واقع ایک 8 منزلہ رہائشی عمارت میں گیس دھماکہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔گردش کرنے والی وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارت کے سامنے والے حصے کا ایک حصہ گر گیا ہے اور ملبے نے قریب کھڑی کئی گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں عمارت کی دو منزلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ متعدد گاڑیوں اور ایک دکان کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ریسکیو اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔دوسری جانب تسنیم نیوز ایجنسی نے اس دھماکے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری فوج کے کسی کمانڈر کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے خبریں "مکمل طور پر غلط” ہیں۔ ادھر اسرائیل میں سیاسی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تل ابیب کا ایران میں ہونے والے دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اسے اس بارے میں کوئی علم ہے۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گذشتہ روز جمعہ کو امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کو خبردار کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں "غیر محفوظ اقدامات” کو قبول نہیں کرے گا۔ یہ انتباہ تہران کی جانب سے وہاں دو روزہ بحری مشقوں کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی فوج غیر محفوظ مشقوں کو برداشت نہیں کرے گی، جیسے کہ امریکی جنگی جہازوں کے اوپر سے پرواز کرنا یا ایرانی تیز رفتار کشتیوں کا امریکی جہازوں کے قریب آنا۔ مزید برآں، امریکی فورسز، علاقائی شراکت داروں یا تجارتی جہازوں کے قریب کوئی بھی غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ رویہ تصادم، کشیدگی اور بد امنی کے خطرات کو بڑھاتا ہے۔واضح رہے کہ بندر عباس شہر جنوبی ایران میں آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے، جو وہ بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فی صد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس شہر میں دو اہم بندرگاہیں واقع ہیں جن میں سے ایک بندر عباس ہے جو ایران کی سب سے بڑی بحری بندرگاہ ہے اور دوسری شہید رجائی بندرگاہ ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading