نظریہ اور مقصد: ہندوستان کے لوگوں (جن میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی شامل ہیں) کی خدمت میں

ہندوستان کے لوگوں (جن میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی شامل ہیں) کی خدمت میں:

عظیم فرانسیسی مصنف، وکٹر ہیوگو نے کہا کہ ’’دنیا میں تمام فوجوں سے طاقتورایک چیز ہے، اور وہ ایک ایسا خیال ہے جس کا وقت آگیا ہو‘‘۔ ایک سیکولر حکومت کے تحت ہندوستان کا اتحاد ثانی (یعنی بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کا دوبارہ اتحاد)، ایک ایسا ہی خیال ہے کہ جس کا وقت آگیا ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا حصول فوری ہوجائے گا، اس کا مطلب مستقبل قریب سے ہے۔ہم ایک بیج بورہے ہیں جس کا پھل محبانِ وطن کی صبر کے ساتھ 10۔15 سال کی کوششوں سے حاصل ہوگا۔ اگر ہم آج کچھ نہ بوئیں تو دس پندرہ سالوں بعد کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اس دن کو دیکھنے کے لئے نہیں رہیں گے، مگر جب درخت پھل دے گا تو یہی ہمارا انعام ہوگا کہ ہم نے اس کے لئے کام کیا ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگوں کا مذاق بنایا جائے گا کہ ہم خواب دیکھ رہے ہیں۔لیکن عظیم اطالوی محقق ماز نی کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا تھا جب انہوں نے اطالوی اتحاد کے بارے میں بات کی تھی؛ وہ خواب سچ ہو کر رہا جب اٹلی کو کوور اور گیریبالی نے متحد کردیا۔ جرمنی کو بسمارک نے متحد کیا؛ مغربی اور مشرقی جرمنی 1990 ء میں متحد ہوئے اور شمالی اور جنوبی ویتنام1975 ء میں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش ایک دن دوبارہ ایک وحدت بننے کے پابند ہیں۔ اگرچہ اس میں کچھ دیر لگے گی، لیکن ہمیں اس کے لئے ابھی سے کام شروع کردینا چاہیے۔
ہم یہ کیوں کہتے ہیں؟ مجھے وضاحت کا موقع دیں۔سچ یہ ہے کہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش اصل میں ایک ملک ہیں۔ عہدِ مغلیہ سے ہم ایک ہی ہیں، ہم یکساں ثقافت کے حامل ہیں، ہماری اکثریت ایک ہی زبان ’’ہندوستانی‘‘ (جسے بھارت میں ہندی اورپاکستان میں اردو میں کہا جاتا ہے)بولتی ہے۔ ہم ایک دوسرے کی طرح ہی نظر آتے ہیں۔ اور ہم ایک جیسے بڑے مسائل کا شکار ہیں جیسے غربت، بے روزگاری قلت تغذیہ، کسانوں کی مصیبتیں، ہمارے عوام کے لئے صحت عامہ اور اچھی تعلیم کی سہولیات کی کمی۔

1947 ء میں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، ہندوستان کی تقسیم ایک تاریخی برطا نوی فراڈ ہے۔(دیکھیں میرے مضامین’The Truth about Pakistan’ اور ‘The Truth about Partition’)۔ دو قومی نظریہ دراصل’ لڑاؤ اور حکومت کرو‘ کی شیطانی پالیسی کا نتیجہ تھا، جس کی ابتدا انگریزوں نے 1857 ء کی عظیم بغاوت کوکچلنے کے بعد کی ا ور اسے مسلسل اور مزید بدتر طریقے سے جاری رکھا۔ (آن لائن دیکھیں بی این پانڈے کی تحریر’History in the Service of Imperialism’ )۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس تاریخی دھوکہ کو بے نقاب کیا جائے اور پلٹ بھی دیا جائے۔ 1857 ء سے پہلے کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں تھا، اور ہندو اور مسلمان آپس میں بھائیوں اور بہنوں کی طرح پر امن طریقے سے رہتے تھے۔ہندو عیدمنانے اور محرم کی تعزیہ داری میں مسلمانوں کے ساتھ شریک رہتے تھے اور مسلمان ہولی اور دیوالی منانے میں ہندوؤں کے ساتھ شمولیت اختیارکرتے تھے۔ مسلم نواب (مثلاً نواب اودھ) رام لیلا کا انعقاد کرتے تھے ، ٹیپو سلطان 156 ہندو مندروں کے سالانہ عطیات دیتے تھے (میرے بلاگ ستیم بریوت پرٹیپو سلطان پر میرا مضمون اور ساتھ ہی بی این پانڈے کی تحریر’History in the Service of Imperialism’ ملاحظہ کریں)۔ یہ تو1857کی عظیم بغاوت ( جو برطانویوں کے خلاف ہندو ؤں اور مسلمانوں نے مشترکہ طور کی تھی ) کو روکنے کے بعد برطانوی حکمرانوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہندوستان کو کنٹرول کرنے کا واحد راستہ’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ہی ہمارے معاشرے میں منظم طور سے زہرپھیلایاگیا اور اسے بار بار، سال در سال، دہائی در دہائی اس طرح کیا جاتا رہا کہ بالآخرہندوستان تقسیم ہوگیا۔(تفصیلات کے لئے میرا مضمون ‘The Truth about Pakistan’ آن لائن دیکھیں)۔
پاکستان کا جنم ایک اسلامی ریاست کے طور پرہوا، لیکن اگر مذہب کسی ملک کی بنیاد بنتا ہے تو اس کا باقی رہ پانا مشکل ہے کیونکہ تقریبا ہر ملک میں کئی مذاہب موجود ہیں۔مثال کے طور پر، برطانیہ میں Protestants(وہ بھی کئی طرح کے، مثال کے طور پر Anglicans انگلینڈ میں اور Presbyterian اسکاٹ لینڈ میں وغیرہ)، رومن کیتھولک، ہندو، مسلمان، سکھ، یہودی، بودھ، وغیرہ موجود ہیں۔ ایسی صورت میں اگر مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوئی تو برطانیہ کو ایک درجن ممالک میں تقسیم کرنا ہوگا اور اسی طرح امریکہ، فرانس، جرمنی وغیرہ میں درجنوں ممالک بن جائیں گے۔ یہ خیال ایک مذاق ہے، مگر برطانویوں نے بر صغیر میں اسے نافذ کیا ۔
کیوں انگریزوں نے (اپنے ایجنٹوں گاندھی اور جناح کا استعمال کرتے ہوئے ) ہندوستان کو تقسیم کیا؟ یہ بٹوارہ دو وجوہات کی بناء پر عمل میں آیا (1) بھارت ایک صنعتی طاقت بن کر ابھرنے نہ پائے،جیسے چین آج صنعتی طاقت بن چکا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوا توہم اپنی سستی لیبر کے ساتھ بر طانوی صنعت کی مصنوعات کو ختم کردیں گے اور اس کے طاقتور حریف بن جائیں گے (2)ہم غیر ملکی ہتھیار وں کی کھپت کی منڈی بنے رہیں۔ (آج بھارت غیر ملکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے،یہی وہی پیسے ہیں جنہیں غریب لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاناچاہیے تھا)۔

ہمارا قومی ہدف یقینی طورہمارے اپنے لوگوں کی اعلی طرز رہائش اورمناسب روزی روٹی کا اہتمام ہونا چا ہے ۔لیکن اس کے لئے ہمیں بھارت کوغیر معمولی صنعتی ملک بنانا پڑے گا، کیونکہ آج یہی ایک ذریعہ ہے،جس سے اس قدر دولت حاصل کی جاسکے کہ ہمارے عوام کی فلاح و بہبود کا خاطر خواہ انتظام ممکن ہو۔ اور اس کے لئے ہمیں ایک سیکولر حکومت کے تحت دوبارہ متحد ہونا پڑے گا، ایسی حکومت جس میں مذہبی آزادی کو برقرار رکھا جائے مگر مذہبی انتہا پسندی یا تعصب کو برداشت نہ کیا جائے ، بلکہ اسے سختی سے کچل دیا جائے۔ جب تک ہم دوبارہ متحد نہیں ہوں گے، ہم ایک دوسرے سے لڑتے رہیں گے اور اس طرح ہم اپنے قیمتی وسائل کو ضائع کرتے رہیں گے۔ جب میں کسی پاکستانی سے ملتا ہوں تو میں اسے اپنے سے مختلف نہیں پاتا ہوں،جب کہ بیرون ملک بھارت اور پاکستان کے لوگ سماجی طور پراتنا گھل مل کر رہتے ہیں جیسے تقسیم کبھی ہوئی ہی نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تقسیم 1947 ء میں ہوئی اور اس کے بعد سے بہت زیادہ پانی بہہ چکا ہے، اور اس لیے اب یہ دوبارہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن مغربی اور مشرق جرمنی 1945 میں تقسیم کے بعد 1990 ء میں متحد ہوئے تھے، اور ویت نام (جس ملک میں بھی بہت سے مذاہب ہیں)ایک طویل عرصے کے بعد 1975 میں دوبارہ متحد ہوا۔اس لیے وقت کی دلیل بے معنی ہے۔ کچھ لوگوں کایہ کہنا ہے کہ ہم متحد نہیں ہوسکتے کیونکہ ہمارے درمیان بہت نفرت ہے،لیکن یہ نفرت مصنوعی طور پر کچھ مفاد پرستوں نے پیدا کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہندوستانی پاکستان جاتے ہیں انہیں بے حد پیارمحبت ملتی ہے اور ان کی خاطر تواضع کی جاتی ہے۔ یہی معاملہ ہوتا ہے جب کوئی پاکستانی ہندوستان آتا ہے۔
کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ اتحاد ثانی کے لیے عملی اور تعمیر ی کارروائی کیا کی جائے؟ جواب یہ ہے کہ فی الحال ہم صرف فکر کی تو سیع کر رہے ہیں۔ایک بار یہ خیال پوری طرح پھیل جائے تو لوگ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کریں گے اوراتحاد کے طریقے اور ذرائع خود تلاش کریں گے۔
میں یہ واضح کردوں کہ ہندوستان کے اتحاد ثانی کاہمارا خیال آر ایس ایس کے اکھنڈ بھارت کے خیال سے بالکل مختلف ہے۔ان کے خیال میں وحدت ہند صرف ہندو اکثریت والا ہے، جبکہ ہمارا نقطۂ نظر سیکولر بھارت کا قیام ہے جس میں مذہبی آزادی ہے اور کوئی بھی کمیونٹی دوسروں پر غالب نہیں ہوتی۔

لہذا محب وطن ہندوستانیو! (اور میں تمام پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کو ہندوستانی سمجھتا ہوں)،اپنافرض اداکرو اور اس مقدس مشن میں ہماری مدد کرو!
آپ کے تعاون کا پیشگی شکریہ

جسٹس مارکنڈے کاٹجو

چیئرمین

انڈین ری یو نیفکیشن ایسوسی ایشن (آئی آر اے)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading