ناندیڑ:11مارچ ( ورق تازہ نیوز)لوک سبھا انتخابات کے پروگرام کا اعلان گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کر دیا ہے جس کے مطابق ریاست مہاراشٹر میں چار مرحلوں میں لوک سبھا ہونے جا رہے ہیں جبکہ مراٹھواڑہ کے اہم اضلاع میں دوسرے مرحلوں میں یعنی 18 اپریل کو رائے دی عمل میں آ رہی ہے۔
اس اعلان کے ساتھ ہی ملک گیر سطح پر لوک سبھا انتخابات کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہے گوشتہ 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی ۔مہاراشٹرمیں بھی اس نے تقریبا 23 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ کانگریس کے صرف دو امیدوار ہیں کامیاب ہوئے تھے جس میں ناندیڑ سے سابق وزیراعلی اشوک چوہان اورہنگولی حلقہ لوک سبھا سے راجو ساتو کامیاب ہوئے تھے ۔سارے ملک میں مودی لہر کے باوجود ان دونوں لیڈران نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس کی جھولی میں مہاراشٹر سے دوسیٹیں دی تھی۔ ناندیڑ ابتداء سے کانگریس کا مضبوط گڑھ رہا ہے اور یہاں پر کانگریس کے سامنے دیگرسیاسی جماعتیں اور انکے لیڈران کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے ہیں ۔
گزشتہ لوک سبھاچناو¿ کی حکمت عملی طئے کرنے کیلئے اشوک راو¿ نے پارٹی کے عہدیداران ‘کارکنان اور ووٹرس سے ملاقات کرکے اُن سے رائےے مشورہ کرتے ہوئے اپنی کامیابی پرمہر ثبت لگادی تھی ۔اس مرتبہ لوک سبھا چناو¿ کیلئے کانگریس پارٹی ناندیڑ کے بھوکر حلقہ کی ایم ایل اے واشوک راو¿ کی شریک حیات امتیاتائی چوہان کے نام کوقطعیت دیتے ہوئے انکے نام کی سفارش پارٹی ہائی کمان کو روانہ کردی ہے ۔لیکن کانگریس کی نظر بی جے پی کے امیدوار پرلگی ہوئی ہے ۔فی الحال بی جے پی کے پاس کوئی مضبوط امیدوارنہیں ہے پھر بھی لوہا ۔قندہار حلقہ اسمبلی کے ایم ایل اے پرتاپ پاٹل چکھلی کرکا نام زیر بحث ہے ۔بی جے پی کے امیدوار کے نام کااعلان ہونے کے بعد ہی شاید کانگریس اپنے ناندیڑکے امیدوار کے نام کااعلان کرے گی ۔
ویسے اشوک راو¿ نے ایک پروگرام میں یہ بھی اشارہ دیا کہ ہوسکتا ہے وہی ناندیڑ سے کانگریس کے امیدوار ہوسکتے ہیں ۔لیکن ناندیڑحلقہ لوک سبھا میں کانگریس کے امیدوارکیلئے حالات سازگار ہے ۔جبکہ اپوزشن بی جے پی ابھی امیدوار طئے کرنے میں ہی دکھای دے رہی ہے اوراسکے پا س کوئی طاقتور امیدوار نہیں ہے ۔