ماہور:8مئی( ورق تازہ نیوز) ماہور کے مارت تیرتھ تالاب سے آج صفائی کے دوران بندوق کے 80 کارتوس (گولیاں)دستیاب ہونے سے ہلچل مچ گئی ہے ۔یہ تمام کارتوس تھری ناٹ تھری کی ہیں جو اکثر نکسلائٹ استعمال کرتے ہیں ۔اب ماہور پولس اس معاملے کی باریک بینی سے تفتیش کررہی ہے ۔ ماہور شہر کے مارتھ تیرتھ کنڈا کی سمت جانیوالی روڈ پر جگ ماتا کا کنڈ ہے جہاںپردیڑھ ماہ سے گال نکالنے کاکام کیارجاہے ۔ آج 8مئی کو صبح ساڑھے دس بجے گال نکالنے کا کام جاری تھا کہ اچانک بندوق کی گولیاں دکھائی دی ۔اس واقعہ کی اطلاع ماہور پولس کو دی گئی ۔

پی آئی لکشمن راکھ فی الفور اطلاع ملتے ہی کنڈا کی سمت روانہ ہوئے اس وقت وہاں سے 73 مکمل کارتوس اور17 تھری ناٹ تھری کی نصف حالت میں دستیاب ہوئیں ۔ گزشتہ دیڑھ ماہ سے مارتھ تیرتھ کنڈ کی سمت جانیوالی روڈ پر جگ ماتا کنڈ(تالاب)سے گال نکالنے کام مقامی افراد کی مدد سے کیاجارہا ہے ۔ آج صبح بھی کام جاری تھا کہ بندوق کی گولیاں دستیاب ہوئیں جسکی اطلاع ماہور پولس کو دی گئی ۔ پی آئی راکھ اپنی ٹیم کے ہمراہ یہاں پہنچ گئے اورتمام کارتوس کو تحویل میں لے لیا اور انھیںصاف کرکے گنتی کی گی تو 73کارتوس زندہ تھے اور 17 ٹوٹے ہوئے تھے ۔ پولس نے اندازہ لگایا کہ کارتوس 20سال پرانے ہے۔ اورامکان ہےکہ 20سال قبل ماہور و کنوٹ میں نکسلائٹ تحریک عروج پر تھی شایدا سی وقت کے کارتوس ہوں گے۔ مگر ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا بیس سال بعد بھی کارتوس ناکارہ نہیں ہوئے؟ یا پھر حالیہ دنوں کسی نے تالاب میں انھیں پھینکا ہے ؟ ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا دوبارہ نکسلائٹ تحریک سرگرم ہوگئی؟ ۔ آج جیسے ہی کارتوس دستیاب ہونے کی اطلاع شہر میں پھیلی لوگوں کاہجوم ہوگیا تھا ۔ واضح رہے کہ ماہور تعلقہ کے خطرناک نکسلائٹ شیام راو¿ کناکے عرف وجئے کمار کو جوناپانی میں 18مئی 1992 کو ختم کردیاگیاتھاجس کے بعدیہاں نکسلائٹ تحریک بند ہوگئی اسکے ساتھی بھی فرار ہوگئے تھے اور ہوسکتا ہےکہ انھوں نے ہی اپنے پاس موجود اسلحہ و گولہ بارود کو اس تالاب میں پھینک دیا ہو کیونکہ انکی آمد ورفت کا یہی اہم راستہ تھا ۔