امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا، سینٹکام کی ایرانی دعوے کی تردید

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی فوج کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے ایک جنگی جہاز کو دو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی افواج نے امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک جہاز پر دو میزائل داغے گئے تھے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

یہ دعویٰ سامنے آنے کے چند منٹوں میں ہی برینٹ خام تیل کی بینچ مارک قیمت چار ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 114 ڈالر تک جا پہنچی جو دن کے آغاز پر قیمت کے مقابلے میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اضافہ تھا۔

تاہم بعد میں امریکہ کی جانب سے اس حملے کی تردید کے بعد قیمت میں قدرے کمی واقع ہوئی۔

گذشتہ شب ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج میں پھنسے جہازوں کو باہر نکالنے کے لیے حفاظتی دستہ فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا جسے انھوں نے ’انسانی ہمدردی کا اقدام‘ قرار دیا۔

اگر آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے کی کوشش کے نتیجے میں دوبارہ لڑائی چھڑ جاتی ہے تو اس سے تیل اور گیس کی ترسیل بحال ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے اور تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی فوج کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے ایک جنگی جہاز کو دو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایکس پر جاری ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا‘۔

سینٹکام کا مزید کہنا ہے کہ امریکی افواج پراجیکٹ فریڈم کی حمایت کر رہی ہیں اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔

اس قبل امریکی نشریاتی ادارت ایگزیوز کے ایک رپورٹر نے ایک سینیئر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو میزائل سے نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کی جانب سے ’سخت اور بروقت انداز میں خبردار کیے جانے کے بعد امریکی اور صیہونی دشمن ڈسٹرائرز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔‘

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک جہاز پر دو میزائل داغے گئے تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading