خانقاہ محفل منصوری بھانڈوپ میں صوفی منصور الحسن شاہ کا عرس روحانی عقیدت کے ساتھ مکمل
ہزاروں زائرین کی حاضری، ذکر و اذکار، سماع اور لنگر کی بابرکت محفلیں

ممبئی (آفتاب شیخ)
ممبئی کے مضافاتی علاقے بھانڈوپ کے کھنڈی پاڑا میں واقع خانقاہ محفل منصوری پر قطب الاولیاء حضرت خواجہ صوفی منصور الحسن شاہ ابوالعلائی جہانگیری کا 31واں سالانہ عرس نہایت عقیدت اور روحانی فضا کے درمیان اختتام پذیر ہوا۔ عرس کی تقریبات 28 اپریل سے شروع ہوکر 2 مئی تک جاری رہیں، جن کے دوران پورا علاقہ زائرین کی آمد سے گہماگہمی کا مرکز بنا رہا اور درگاہ روڈ پر دن و رات ایک نورانی کیفیت طاری رہی۔
ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مریدین، معتقدین و عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے بزرگانِ دین سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔ خانقاہ محفل منصوری میں منعقدہ تقریبات کے دوران تلاوتِ قرآن، درود و سلام، ختمات اور ذکر و اذکار کی محافل سجائی گئیں، جن میں شریک افراد نے روحانی سکون اور فیوض و برکات حاصل کیے۔
حضرت صوفی منصور الحسن شاہ کی تعلیمات میں انسانیت، رواداری، امن اور محبت کا پیغام نمایاں رہا ہے۔ آپ نے تصوف کے ذریعے انسان کو اپنے خالق سے جوڑنے اور سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا درس دیا۔ آپ کی یہی تعلیمات آج بھی عقیدت مندوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ 1996 میں آپ کے وصال کے بعد بھی آپ کی روحانی خدمات کا سلسلہ جاری ہے۔
خانقاہ محفل منصوری میں عرس کے موقع پر خلیفہ منصور میاں حضرت صوفی عبدالنعیم عطاء شاہ کی نگرانی میں قل شریف، محفلِ سماع، ذکر و اذکار اور لنگر کی تقسیم جیسے پروگرام منعقد کیے گئے۔ قل شریف کے بعد اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس میں ملک و قوم کی فلاح و بہبود اور امن و استحکام کے لیے نعیم میاں نے خصوصی دعائیں مانگی۔ اس موقع پر حافظ سلطان صلاح الدین خان، نورالدین خان اور معین الدین خان بھی شریک رہے۔
اس روحانی محفل میں سیاسی و سماجی میدان سے وابستہ کئی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں مقامی رکن پارلیمنٹ سنجے دینا پاٹل، رکن اسمبلی اشوک پاٹل اور کارپوریٹر سریش کوپرکر شامل ہیں۔ تمام مہمانوں نے خانقاہ پر حاضری دے کر عقیدت پیش کی۔ عرس کی یہ تقریبات عقیدت مندوں کے لیے روحانی تازگی کا ذریعہ بنیں اور پورا علاقہ ذکر و فکر کی فضا میں ڈوبا رہا۔
