جنوبی ہندوستان نے بی جے پی کے زہریلے نظریات اور نریندر مودی کی قیادت کو مسترد کر دیا: ہرش وردھن سپکال
کیرلا کے باشعور عوام نے کانگریس کی فکر اور راہل گاندھی کی قیادت پر اعتماد کیا، یہ کامیابی ملک بھر میں کانگریس کو نئی توانائی دے گی
ممبئی: پانچ ریاستوں اسمبلی انتخابات کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابات میں ہر ممکن حربہ استعمال کیا، مگر جنوبی ہندوستان کے عوام نے بی جے پی کے زہریلے، تقسیم پیدا کرنے والے نظریات اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو صاف طور پر مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے انتخابات میں سام، دام، دنڈ اور بھید کی پالیسی اپناتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن جنوبی ریاستوں میں عوام نے ان کی اس حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں مرکزی حکومت نے انتخابی عمل کے دوران انتخابی ضابطوں، روایات اور اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے انتخابی کمیشن کی مدد سے دباؤ اور طاقت کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے، سی آر پی ایف اور دیگر فورسز کو استعمال کرتے ہوئے انتخابی ماحول کو متاثر کیا گیا، جس کے باوجود بی جے پی نے مبینہ طور پر غیر شفاف طریقوں سے کامیابی حاصل کی۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی کی یہ حکمت عملی جنوبی ہندوستان میں کامیاب نہیں ہو سکی، جہاں عوام نے اس کے نظریات اور قیادت کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں کانگریس کی کامیابی دراصل جمہوریت اور آئین کی جیت ہے، جہاں عوام نے کانگریس کے نظریے اور راہل گاندھی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو بچانے کے لیے کانگریس کی فکر ہی واحد راستہ ہے اور کیرالہ کی کامیابی نے پارٹی کے کارکنان میں ملک بھر میں ایک نئی توانائی پیدا کی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہی توانائی مستقبل میں کانگریس کو مزید مضبوط کرے گی اور آنے والے انتخابات میں پارٹی کو فائدہ پہنچائے گی۔